وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کو آئینی قرار دے دیا، تمام درخواستیں مسترد

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے 27 جنوری بروز منگل کو ایک اہم فیصلے میں سپر ٹیکس کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ٹیکس عائد کرنے، اس کی نوعیت متعین کرنے اور شرح مقرر کرنے کا اختیار آئینِ پاکستان کے تحت مکمل طور پر پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ عدالت نے سپر ٹیکس کے خلاف دائر تمام درخواستیں مسترد کر دیں، جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
یہ مختصر فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے سنایا، جس میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات 4B اور 4C بدستور نافذ العمل رہیں گی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جب پارلیمنٹ آئینی تقاضوں کے مطابق ٹیکس سے متعلق قانون سازی کرتی ہے تو عدالتی مداخلت کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے، کیونکہ ٹیکس پالیسی سازی منتخب قانون ساز ادارے کا آئینی اختیار ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ تیل اور گیس کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں اگر کسی قسم کی رعایت یا استثنیٰ کی خواہاں ہوں تو وہ متعلقہ ٹیکس کمشنر سے انفرادی طور پر رجوع کر سکتی ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سپر ٹیکس کے خلاف دائر تمام اپیلیں خارج کر دی گئیں۔
سپر ٹیکس حکومت کی محصولات میں اضافے کی حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے، جو بالخصوص بڑی کمپنیوں اور کافی زیادہ آمدن رکھنے والے افراد پر عائد کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس ٹیکس کا مقصد مالی استحکام، قرضوں کی ادائیگی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے شدہ اہداف کا حصول ہے۔
تاہم، کاروباری تجزیہ کاروں کے نظر میں اضافی ٹیکسوں کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے، کیونکہ کمپنیاں اپنی لاگت میں اضافے کو قیمتوں میں شامل کر لیتی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ٹیکس قوانین کے خلاف مستقبل میں دائر کی جانے والی درخواستوں کے دائرہ کار کو واضح کرتا ہے اور مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان آئینی توازن کے اصول کو مضبوط بناتا ہے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ سپر ٹیکس کی آئینی توثیق سے حکومت کو محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے طویل المدتی معاشی اثرات کا جائزہ وقت کے ساتھ سامنے آئے گا۔
وفاقی آئینی عدالت، جو ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت نومبر 2025 میں قائم کی گئی تھی، اس فیصلے کے ذریعے اپنے آئینی کردار کو مزید واضح کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ آئینی نظام میں ایک اہم عدالتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔






