ٹی20 ورلڈ کپ 2026: بنگلہ دیش کا فیصلہ، آئی سی سی کا دباؤ اور پاکستان کا بدلتا مؤقف

آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا اور متوقع ایونٹ ہے، جو 7 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا میں منعقد ہونا ہے۔ مگر ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل ہی ایک غیر متوقع تنازع سامنے آ گیا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے بھارت میں میچ کھیلنے سے ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے، جس کے بعد آئی سی سی، پاکستان کرکٹ بورڈ اور دیگر شراکت دار بورڈز کے درمیان سفارتی اور انتظامی سطح پر گفتگو تیز ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ٹورنامنٹ کے شیڈول بلکہ عالمی کرکٹ کی سیاست کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
بنیادی تفصیلات
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ اس ایونٹ میں دنیا بھر سے ٹاپ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جن میں پاکستان، بھارت، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش، آئرلینڈ اور دیگر شامل ہیں۔
بنگلہ دیش کو گروپ C میں رکھا گیا ہے، جہاں ان کے چار میچ طے ہیں:
افتتاحی میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف – کولکتہ
دو مزید گروپ میچ – کولکتہ
آخری گروپ میچ – ممبئی
یہ شیڈول آئی سی سی نے کئی ماہ قبل جاری کیا تھا اور تمام بورڈز نے باضابطہ طور پر اس کی منظوری دی تھی۔
بنگلہ دیش کا موقف
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اچانک اعلان کیا کہ ٹیم بھارت میں میچ نہیں کھیلے گی۔ اگرچہ بورڈ نے کسی مخصوص خطرے کا ذکر نہیں کیا، لیکن سیکیورٹی اور سفری خدشات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ( بی سی بی ) کا کہنا ہے کہ وہ ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ ان کے تمام میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔ بھارت میں کھیلنا اس وقت ان کے لیے موزوں نہیں۔ یہ اعلان کرکٹ حلقوں میں حیرت کا باعث بنا کیونکہ آئی سی سی پہلے ہی کہہ چکی تھی کہ بنگلہ دیش ٹیم کو کوئی مخصوص سیکیورٹی خطرہ لاحق نہیں۔
آئی سی سی کا ردعمل
بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے واضح کیا کہ:
ٹورنامنٹ کا شیڈول برقرار رہے گا۔ بنگلہ دیش کو 21 جنوری تک حتمی فیصلہ کرنا ہوگا اگر فیصلہ نہیں کیا گیا تو متبادل ٹیم کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
آئی سی سی کا موقف
"ہم نے تمام ٹیموں کے لیے سیکیورٹی انتظامات کا مکمل جائزہ لیا ہے، کوئی غیر معمولی خطرہ موجود نہیں۔”
یہ سخت مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ آئی سی سی کسی ایک ٹیم کی وجہ سے پورا شیڈول تبدیل نہیں کرنا چاہتی۔
متبادل ٹیم کا امکان
اگر بنگلہ دیش شرکت سے انکار کرتا ہے تو اسکاٹ لینڈ کو بطور متبادل ٹیم شامل کیا جا سکتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ عالمی رینکنگ میں اگلی اہل ٹیم ہے۔
تاہم اب تک آئی سی سی نے باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ اس حوالے سے اسکاٹ لینڈ بورڈ سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ معاملہ ابھی صرف میڈیا رپورٹس تک محدود ہے۔ یہ غیر یقینی صورتحال شائقین کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
پاکستان کا ردعمل
بنگلہ دیش کے فیصلے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے حیران کن قدم اٹھایا۔ PCB نے اعلان کیا کہ وہ ٹی20 ورلڈ کپ کی تیاری عارضی طور پر روک رہے ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ کو متبادل منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو شرکت پر نظرثانی کی جا سکتی ہے یہ فیصلہ بنگلہ دیش سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم کچھ ہی دن بعد PCB نے وضاحت جاری کی کہ:
پاکستان ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا۔ بائیکاٹ کی خبریں غلط ہیں تیاریوں کا عمل جلد بحال کیا جائے گا۔ یہ متضاد بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان خود بھی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔
دیگر ممالک کا مؤقف
آئرلینڈ کرکٹ بورڈ نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے گروپ میچز سری لنکا میں ہی ہوں گے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تمام بورڈز یکساں طور پر تبدیلی کے حق میں نہیں۔
پس منظر اور سیاق و سباق
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی عالمی ایونٹ سے قبل سیکیورٹی خدشات سامنے آئے ہوں۔ ماضی میں پاکستان نے طویل عرصے تک ہوم کرکٹ نہیں کھیلی۔
اس کے علاؤہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی تناؤ ہمیشہ اثر انداز رہا۔ اسی تناظر میں بنگلہ دیش کا محتاط رویہ سمجھا جا سکتا ہے، لیکن آئی سی سی عالمی ایونٹ کو سیاسی تنازعات سے دور رکھنا چاہتی ہے۔
ممکنہ اثرات
اگر بنگلہ دیش ٹورنامنٹ سے دستبردار ہوتا ہے تو گروپ C کی صورتحال مکمل طور پر بدل جائے گی۔ ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور دیگر ٹیموں کو نیا حریف ملے گا۔ شائقین کی دلچسپی متاثر ہو سکتی ہے۔ آئی سی سی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی طرح اگر پاکستان نے بھی سخت قدم اٹھایا تو یہ ٹورنامنٹ کی ساکھ کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کرکٹ کا سب سے بڑا عالمی میلہ ہے، لیکن بنگلہ دیش کے تحفظات اور آئی سی سی کے سخت فیصلے نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں 21 جنوری ایک اہم تاریخ ثابت ہوگی۔ تمام نظریں اس بات پر ہیں کہ:
کیا بنگلہ دیش اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے؟
کیا آئی سی سی شیڈول میں لچک دکھائے گی؟
یا پھر اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا جائے گا؟
فی الحال شائقین کرکٹ بے چینی سے منتظر ہیں کہ اس بحران کا انجام کیا ہوگا





