سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی: اب صرف الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں خریدی جائیں گی

وفاقی حکومت کی جانب سے 14 جنوری کو سرکاری اداروں میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی نئی خریداری پر پابندی کے فیصلے کے بعد اس پالیسی سے متعلق مزید اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ماحولیاتی آلودگی میں کمی، ایندھن کی درآمد پر انحصار کم کرنا اور سرکاری سطح پر الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق تمام وفاقی محکموں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ آئندہ صرف الیکٹرک یا ہائبرڈ گاڑیاں ہی خریدی جائیں گی۔ تاہم، فیلڈ ڈیوٹی انجام دینے والی گاڑیوں کو مشروط استثنیٰ دیا گیا ہے، خاص طور پر وہ گاڑیاں جو دور دراز علاقوں میں استعمال ہوتی ہیں جہاں الیکٹرک چارجنگ سہولیات دستیاب نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کا ہدف 2030 تک سرکاری گاڑیوں کے مجموعی بیڑے کا کم از کم 30 فیصد حصہ الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کرنا ہے، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ بچے گا بلکہ فضائی آلودگی میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک جامع الیکٹرک وہیکل پالیسی پر بھی کام تیز کر دیا گیا ہے، جس کا اعلان جلد متوقع ہے۔
نئے پٹرول پمپس پر الیکٹرک چارجنگ لازمی
پالیسی کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں نئے پٹرول پمپس کو الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز نصب کرنے کی شرط پر این او سی جاری کیے گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق:
فیصل آباد میں 29
لاہور میں 14
بہاولپور میں 10
خانیوال اور بہاولنگر میں 9، 9
راولپنڈی اور جھنگ میں 8، 8
ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، قصور اور چنیوٹ میں 7، 7
نئے پٹرول پمپس کو الیکٹرک وہیکل چارجنگ یونٹس نصب کرنے کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق بغیر چارجنگ سہولت کے کسی بھی نئے پٹرول پمپ کو آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی حکومت کا مؤقف
پنجاب کے چیف سیکرٹری نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گرین انرجی اور ماحولیاتی تحفظ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری گاڑیوں کو ہائبرڈ اور الیکٹرک پر منتقل کرنا مستقبل کے توانائی بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ماہرین کی رائے
ماہرین ماحولیات کے مطابق دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور متعدد ممالک 2030 تک پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر مکمل پابندی لگانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ اقدام ماحول دوست پالیسی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے شہری علاقوں میں فضائی آلودگی کم ہونے کی امید ہے۔
واضح رہے
یہ پابندی فی الحال صرف سرکاری سطح پر نئی گاڑیوں کی خریداری تک محدود ہے، جبکہ نجی شعبہ اور موجودہ سرکاری گاڑیاں اس پالیسی کے دائرہ کار میں شامل نہیں۔ تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں عوامی سطح پر بھی الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے مراعاتی پیکجز متعارف کروائے جا سکتے ہیں۔






