سائنسدانوں کا نیا کارنامہ: پلک جھپکنے سے چلنے والا آئی ٹریکنگ سسٹم تیار

سائنسدانوں نے جنوری 2026 میں ایک ایسا جدید آئی ٹریکنگ سسٹم تیار کیا ہے جو بغیر بیٹری کے کام کرتا ہے، پلک جھپکنے سے خود بجلی پیدا کرتا ہے اور مکمل اندھیرے میں بھی آنکھوں کی حرکت کو شناخت کر سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر اے ایل ایس جیسی شدید عضلاتی بیماریوں کے شکار افراد کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ وہ کمپیوٹر کے ذریعے بہتر انداز میں بات چیت کر سکیں۔

سائنسی جریدے سیل رپورٹس فزیکل سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ جدید نظام ایک خاص کانٹیکٹ لینز اور ایک چشمے پر مشتمل ہے۔ کانٹیکٹ لینز آنکھ پر لگایا جاتا ہے جبکہ چشمے میں نہایت باریک الیکٹروڈز نصب کیے گئے ہیں جو آنکھوں کی حرکت کو ریکارڈ کرتے ہیں۔

اس نظام میں کوئی بیٹری استعمال نہیں کی گئی۔ جب انسان پلک جھپکے گا تو پلک اور لینز کے درمیان ہلکی سی رگڑ پیدا ہو گی۔ اس رگڑ سے معمولی مقدار میں بجلی بنے گی، بالکل اسی طرح جیسے کپڑے سے غبارہ رگڑنے پر جامد بجلی پیدا ہوتی ہے۔ یہ سسٹم اسی بجلی کو جمع کرکے اپنی توانائی حاصل کرتا ہے اور آنکھوں کی حرکت کو ٹریک کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نظام صرف دو ڈگری کی معمولی آنکھ کی حرکت کو بھی 99 فیصد درستگی کے ساتھ پہچان سکتا ہے۔ چونکہ یہ ٹیکنالوجی روشنی یا کیمرے پر انحصار نہیں کرتی، اس لیے یہ مکمل اندھیرے میں بھی مؤثر طریقے سے کام کر سکتی ہے۔

اب تک اس سسٹم کا تجربہ صرف خرگوشوں اور ایک روبوٹک آنکھ پر کیا گیا ہے۔ انسانوں پر آزمائش کا مرحلہ ابھی باقی ہے، تاہم ابتدائی نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا جا رہا ہے۔

تحقیق میں استعمال ہونے والا سسٹم روشنی کو گزرنے دیتا ہے تاکہ بینائی متاثر نہ ہو، مگر اس کی مکمل شفافیت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد ان افراد کی مدد کرنا ہے جو اے ایل ایس اور دیگر اعصابی یا عضلاتی بیماریوں کے باعث بولنے یا حرکت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے مریض عموماً آنکھوں کی حرکت کے ذریعے بات چیت کرتے ہیں، اور یہ نیا نظام انہیں کمپیوٹر، موبائل اور دیگر ڈیجیٹل آلات استعمال کرنے میں بڑی سہولت فراہم کر سکتا ہے۔

اگرچہ یہ نظام عام صارفین، گیمنگ یا ورچوئل رئیلٹی کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے لوگوں کو طویل وقت تک کانٹیکٹ لینز پہننا ہوگا، جو ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ایجاد چھوٹی حرکات سے بجلی پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسانی جسم کی معمولی حرکت سے بھی کم توانائی استعمال کرنے والے آلات چلائے جا سکتے ہیں۔

تاہم کچھ تکنیکی پہلو ابھی واضح نہیں ہو سکے، جیسے یہ نظام کتنی تیزی سے آنکھوں کی حرکت کو اپ ڈیٹ کرتا ہے اور لینز اور چشمے کی مکمل شفافیت کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں معذور افراد کے لیے ڈیجیٹل دنیا تک رسائی کو مزید آسان بنا سکتی ہے اور بیٹری کے بغیر چلنے والے جدید آلات کی راہ ہموار کرے گی

ZK Mumtaz
ZK Mumtaz
Articles: 13