ناسا کریو-11 مشن جلد ختم کرنے پر غور، آئی ایس ایس پر خلاباز کی طبی حالت تشویش کا باعث

واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر موجود اسپیس ایکس کریو-11 مشن کو وقت سے پہلے ختم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، جب ایک خلاباز کو طبی مسئلہ پیش آیا۔ ناسا کے مطابق متاثرہ خلاباز کی حالت اس وقت مستحکم ہے، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب بدھ 7 جنوری کو ناسا نے ایک منصوبہ بند خلائی چہل قدمی (اسپیس واک) ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اسپیس واک جمعرات 8 جنوری کو ہونی تھی، جس میں کریو-11 کی کمانڈر زینا کارڈمین اور پائلٹ مائیکل فنکے حصہ لینے والے تھے۔ ناسا نے تاخیر کی وجہ صرف "طبی تشویش” بتائی، تاہم متاثرہ خلاباز کا نام اور بیماری کی نوعیت ظاہر نہیں کی گئی۔
جمعرات کی صبح ناسا نے ای میل کے ذریعے تازہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خلاباز کی حالت قابو میں ہے اور مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور مشن کو جلد ختم کرنے سمیت تمام امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
کریو-11 مشن 2 اگست 2025 کو آئی ایس ایس پہنچا تھا اور اس کی مدت چھ ماہ مقرر کی گئی تھی۔ اس مشن میں ناسا کی زینا کارڈمین اور مائیکل فنکے کے علاوہ جاپانی خلائی ایجنسی جیکسا کے خلاباز کیمیا یوئی اور روسی خلائی ادارے روسکوسموس کے اولیگ پلاٹونوف شامل ہیں۔
اس وقت خلائی اسٹیشن پر تین مزید خلاباز بھی موجود ہیں، جن میں ناسا کے کرسٹوفر ولیمز اور روس کے سرگئی کُڈ-سویَرچکوف اور سرگئی میکایف شامل ہیں۔ یہ تینوں 27 نومبر کو سویوز خلائی جہاز کے ذریعے آئی ایس ایس پہنچے تھے۔
ناسا حکام کے مطابق کریو-11 مشن اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور زیادہ تر سائنسی اور تحقیقی سرگرمیاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ اسی وجہ سے اگر مشن کو جلد ختم کیا گیا تو اس سے مجموعی اہداف پر زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق طویل خلائی مشن کے اختتام پر طبی مسئلے کا سامنا کرنا ایسے ہی ہے جیسے میراتھن ریس میں آخری لمحات میں کھلاڑی کو پٹھوں میں کھچاؤ ہو جائے۔ اگرچہ منزل قریب ہوتی ہے، مگر کوچ کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کھلاڑی کو آگے بڑھنے دیا جائے یا صحت کے تحفظ کے لیے روک دیا جائے۔
فی الحال ناسا نے متاثرہ خلاباز کی شناخت یا بیماری کی نوعیت ظاہر نہیں کی اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ نجی معلومات کے تحفظ کے تحت کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
ناسا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور جیسے ہی مزید معلومات دستیاب ہوں گی، عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔ خلائی مشن سے جڑی یہ پیش رفت دنیا بھر میں خلائی تحقیق پر نظر رکھنے والوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔




