پی آئی اے کی اسلام آباد سے لندن پروازیں چھ سال بعد بحال، 29 مارچ سے آغاز

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے تقریباً چھ سال کے طویل وقفے کے بعد اسلام آباد سے لندن کے لیے براہِ راست پروازیں بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو 29 مارچ سے شروع ہوں گی۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اسلام آباد سے لندن کے لیے اپنی براہِ راست پروازیں 29 مارچ سے دوبارہ شروع کر رہی ہے، جس سے چھ سال سے معطل اس اہم بین الاقوامی فضائی رابطے کی بحالی عمل میں آئے گی۔ قومی ایئرلائن کے مطابق یہ پروازیں لندن کے معروف ہیتھرو ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر اتریں گی، جو دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے۔
پی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اسلام آباد اور لندن کے درمیان ہفتہ وار چار پروازیں چلائی جائیں گی۔ ان پروازوں کی بحالی سے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں، کاروباری شخصیات، طلبہ اور دیگر مسافروں کو براہِ راست سفر کی سہولت میسر آئے گی، جو گزشتہ کئی برسوں سے بالواسطہ اور نسبتاً مہنگے سفری انتظامات پر مجبور تھے۔
اسلام آباد–لندن روٹ ماضی میں پی آئی اے کے اہم ترین بین الاقوامی روٹس میں شامل رہا ہے۔ اس روٹ کی بندش کے بعد بیشتر مسافروں نے غیر ملکی ایئرلائنز کا رخ کیا، جس کے باعث قومی ایئرلائن کو مسافروں اور آمدنی دونوں میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تناظر میں لندن کے لیے پروازوں کی بحالی کو پی آئی اے کی بین الاقوامی ساکھ اور مسابقتی حیثیت کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پی آئی اے اس وقت مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں پہلے ہی آپریٹ کر رہی ہے۔ لندن کی پروازوں کے اضافے سے برطانیہ میں قومی ایئرلائن کی موجودگی مزید مستحکم ہو جائے گی اور مسافروں کو سفر کے حوالے سے زیادہ سہولت اور انتخاب کے مواقع میسر آئیں گے۔
ماہرینِ ہوابازی کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے اہم بین الاقوامی روٹس کی مرحلہ وار بحالی اس کی مجموعی اصلاحاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ طویل فاصلے کی پروازیں عموماً زیادہ آمدنی کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں، اس لیے لندن روٹ کی بحالی سے ایئرلائن کی مالی حالت میں بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
اس اقدام سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سیاحت، تجارت اور عوامی روابط کے فروغ میں بھی مدد ملنے کا امکان ہے، جبکہ ہیتھرو ایئرپورٹ کے ذریعے مسافروں کو یورپ اور دیگر عالمی مقامات کے لیے بہتر سفری روابط بھی حاصل ہوں گے۔ اگرچہ مستقبل میں پروازوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم حکام کے مطابق اس کا انحصار مسافروں کی طلب پر ہوگا۔






