286

ہومیوپیتھک ڈاکٹر عابد راؤ(مرحوم) کمال ہیڈ آفس راولپنڈی میں ہومیوپیتھک ڈاکٹر عشرت نعیم بھٹی کے زیر انتظام ایک تعزیتی اجلاس

تعزیتی اجلاس
بیاد
ہومیوپیتھک ڈاکٹر عابد راؤ(کرامت حسین – مرحوم)
موت تو اس کی ہے زمانہ کرے جسکا افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لئے
مورخہ 13 اپریل 2022 بروز بدھ کمال ہیڈ آفس راولپنڈی میں ہومیوپیتھک ڈاکٹر عشرت نعیم بھٹی کے زیر انتظام ایک تعزیتی اجلاس بیاد ہومیوپیتھک ڈاکٹر عابد راؤ(کرامت حسین – مرحوم) کا انعقاد ہوا ۔ جوکہ مورخہ 12 جنوری 2022 کو دل کے اٹیک کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ اجلاس میں راولپنڈی کے متعبر ہومیوپیتھس نے شرکت کی۔ مرحوم ہومیوپیتھک ڈاکٹر عابد راؤ کی فیملی سے ان کے فرزند فرخ عابدراؤ اور بھتیجے ہومیوپیتھک ڈاکٹر فیصل راؤ نے خصوصی طور پر شامل ہوئے۔ پروگرام کا آغاز ہومیوپیتھک ڈاکٹر آفتاب حسن منہاس نے کیا اور میزبانی کے فرائض ہومیوپیتھک ڈاکٹر رضوان حمید نے ادا کیے، علاوہ ازیں شرکاء میں راولپنڈی کے سینئر ہومیوپیتھس میں سے ہومیوپیتھک ڈاکٹر علی محمد ، ہومیوپیتھک ڈاکٹرعرفان ولی، ہومیوپیتھک ڈاکٹر محمودالحق عباسی، ہومیوپیتھک ڈاکٹر اعجاز علی، ہومیوپیتھک ڈاکٹریونس قریشی، ہومیوپیتھک ڈاکٹروقار احمد بھٹہ، ہومیوپیتھک ڈاکٹرمرتضی مغل، ہومیوپیتھک ڈاکٹر جاوید قریشی، ہومیوپیتھک ڈاکٹراکرام الحق کیانی، ہومیوپیتھک ڈاکٹر خالد جاوید قریشی، ہومیوپیتھک ڈاکٹرشوکت قریشی، ہومیوپیتھک ڈاکٹراعجاز غوری، ہومیوپیتھک ڈاکٹرارشد محمود اعوان، ہومیوپیتھک ڈاکٹرحامد گردیزی، ہومیوپیتھک ڈاکٹر رستم صاحب، نے شرکت کی،
میزبان ہومیوپیتھک ڈاکٹر رضوان حمید نے ہومیوپیتھک ڈاکٹر عابد راؤ (مرحوم )کے بارے میں تعارف پیش کیا، مرحوم ہومیوپیتھک ڈاکٹر عابد راؤ جن کا اصلی نام کرامت حسین تھا وہ 15 اپریل 1966 کو اوکاڑہ میں پیدا ہوئے، ہومیوپیتھی 1995 میں راولپنڈی سے مکمل کی او ر راولپنڈی میں پرائیوٹ جاب کے ساتھ ساتھ اپنے گھر میں ہی ہومیوپیتھک کلینک بنایا۔ ہومیوپیتھی ان کا جنون تھا ا ور اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے 2017 میں سوشل میڈیا (فیس بک) پر ایک گروپ بنایا جسکا نام فاسٹ ہومیوگروپ رکھا اور اس میں لوگوں کو فری ادویات تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ ہومیوپیتھس کے لئے بہت سے موضوعات پر تحاریر بھی لکھتے تھے۔ یوں انہوں نے ایک جدید مگر نازک پلیٹ فارم کو منتخب کیا جس پر ہومیوپیتھی کو پھیلا سکیں اور ان کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت اس گروپ میں کم وبیش 64 ہزار لوگ جمع ہیں جن میں ہومیوپیتھک ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر عابد راؤ(مرحوم) کی وفات کے بعد ان کے بھتیجے ہومیوپیتھک ڈاکٹر فیصل راؤ اب اس گروپ کو دیکھ رہے ہیں اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل ہیں۔ اس کے ساتھ کمال میگزین جو کہ 1974 سے شائع ہو رہا ہے اس میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے حوالے سے بھی شرکاء کو اگاہ کیا گیا۔ ہومیوپیتھی کو فروغ وترویج دینے کے لئے ہومیوپیتھس کو پروموٹ کرنا ہو گا، اس سلسلے کی نئی سرگرمی کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے جس میں ہومیوپیتھس سے انکے حالات زندگی کے حوالے سے اگاہی لی جائے گی۔ وقت نے ثابت کیا ہومیوپیتھی تو کمال ہے۔
شرکاء کے تاثرات درج ذیل ہیں۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹراکرام الحق کیانی صاحبنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وپ مرحوم ہومیوپیتھک ڈاکٹر عابد راؤ صاحب کو 2002 سے انکے کلینک کے افتتاح کے موقع سے جانتے تھے اور ان کی اس اچانک وفات پر ان کے لواحقین سے افسوس کے ساتھ انکی مغفرت کے لے دعاگو ہیں۔ انکے مشن کی تکمیل کے لئے تمام ہومویپیتھس یکجا ہیں۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر عشرت نعیم بھٹی صاحب نے ایک عمدہ کوشش کی ہے اور یہ خراج عقیدت قابل تحسین ہے۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹریونس قریشی صاحب نے کہا کی مرحوم عابد راؤ صاحب ایک شخص نہیں تحریک تھے یہ بات اس لئے کہ رہا ہوں کیونکہ آج یہاں موجود شخصیات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ہومیوپیتھی کی فلاح کےلئے دن رات ایک کئے ہوئے تھے، وہ ہر بات دل سے کرتے تھے ، آج کی تقریب کو منعقد کرنے پر ہومیوپیتھک ڈاکٹرعشرت نعیم بھٹی اور کمال لیبارٹریز کو مبارکباد جوکہ ان کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ دکھی دل کے ساتھ ان کے درجات کی بلندی کی ڈھیروں دعائیں ہیں۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر ارشد محمود اعوان صاحب اپنے تاثرات میں کہا کہ اس بابرکت ماہ رمضان میں یہ تعزیزتی اجلاس مرحوم کی کسی نیکی کا شاید صلہ ہے کہ سب شرکاء باوضو اور روزہ کی حالت میں ان کی مغفرت کے لئے دعا گو ہیں۔ وہ ایک اعلی شخصیت کے مالک تھے اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور منعقد کرنے والوں کو بھی اجر عظیم عطافرمائے۔ آمین۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹررستم علی صاحب نے کہا کہ میری ان سے دو دفعہ ملاقات ہوئی تھی اور ایک نہایت سچا شخص تھا اور ہر ایک کو ہومیوپیتھی سیکھانے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتا تھا۔ ہم سب کلینکس کرتے ہیں لیکن عابد راؤ مرحوم مر کر بھی زندہ ہیں ان کی سوچ، افکار اسے ہمیشہ کے لئے زند ہ رکھیں گے۔ اور اس ماہ صیام میں ہم سب ان کی مغفرت اور اجر عظیم کے لئے اللہ تعالی سے دعا گو ہیں۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹروقار احمد بھٹہ صاحب نے مرحوم عابد راؤ صاحب کی فیملی کے لئے برداشت اور صبر کی دعا سے اپنی بات کا آغاز کیا ۔ اور شرکاء کو بتا یا کہ مرحوم نے 2017 میں فاسٹ ہومیوگروپ فیس بک پر بنا یا اور اس میں ہومیوپیتھی کے متعلق بے شمار معلومات دیں اور راولپنڈی کے مشہور ہومیوپیتھس میں شامل ہوئے ، ہماری زندگی بہت مختصر ہے اگر سب عابد راؤ مرحوم سے دلی محبت رکھتے ہیں تو ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے ضرور عملی کوشش کریں۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹرمرتضی مغل صاحب نے دعائیہ کلمات کے ساتھ آغاز کیا اور کہا کہ آج جو ماحول ہے وہ تو یہ ہے کہ ایک دوسرے سے بچ کر نکلنا محال تھا ، ایک دوسرے کو روند کر آنا پڑا ہمیں،اور اپنے دئیے کو چاند بتانے کے واسطے بستی کا ہر چراغ بجھانا پڑاہمیں۔ وقت نے ثابت کیا ہومیوپیتھی تو کمال ہے میں یہ کہتا ہوں ہومیوپیتھی معجزے سے قبل آخری علاج ہے۔ میں یہ کہنا چہاتا ہوں کہ موت کو غافل سمجھے ہیں اختتام زندگی ، ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی۔ڈاکٹر عشر ت نعیم بھٹی صاحب نے ہمیں یہ یاد کرایا ہے اس کے لئے شکریہ جسکا ذریعہ بنے مرحوم ڈاکٹر عابد راؤ، ان کے لواحقین یہاں بیٹھے ہیں وہ بھی خوش ہوں گے اور اللہ بھی آپ سے راضی ہو گا۔
مرحوم ڈاکٹر عابد راؤ کے مشن کو آگے لے کر چلنا ہے اور ان کا مشن جو میں سمجھا ہوں ہو شاید یہ ہے کہ
مخلوق خدا جب کبھی کسی مشکل میں پڑی ہو ،سجدوں میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی
اور منزل تری تلاش میں بھٹکے گی در بدر ، خلق خدا کی رہ سے روڑے ہٹا کے دیکھ
محترم ڈاکٹر عشرت نعیم بھٹی صاحب آپ مرحوم پروفیسر پرویز اختر قریشی کے قریبی رفقاء میں سے ہیں وہ بھی ہمیشہ دوسروں کے راستوں سے روڑے ہٹاتے رہے اور آپ بھی وہی کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عابد راؤ مرحوم نے خدمت خلق کا پیغام دیا اور ہومیوپیتھس کے ہوتے ہوئے کسی بھی بیمار کا شفایاب نہ ہونا ممکن ہی نہیں۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹرمحمود الحق عباسی صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، مرحوم ڈاکٹر عابد راؤ صاحب نے بہت تھوڑی سی عمر میں ہومیوپیتھی کے ذریعے خدمت انسانی کو اپنا اشعار بنایا،یہی وجہ ہے کہ ہم اج سب یہا ں بیٹھے ہوئے انہیں یا دکر رہے ہیں۔ ان کے پاس جو بھی علم تھا انہوں نے اس کے ذریعے دکھی انسانیت کو شفا کی جانب گامزن کرنے کے لئے کوشش کی۔ اللہ پاک ان کو اس نیک کوشش کا اجر دے اور ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔ اللہ ہم سب کو بھی ایسی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آج یہا ں جتنے بھی شرکاء ان سب کو ہومیوپیتھی نے بہت کچھ دیا اور ہم سب کو بھی چایئے کہ ہم ہومیوپیتھی کو اپنا وقت دیں اور دکھی انسانیت کی خدمت کر سکیں۔ اللہ ہم سب کو ڈاکٹر عابد راؤ (مرحوم) کی طرح سے اپنے نالج کو سب سے شئیرکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹرعرفان ولی صاحب، نے فرمایا کہ آج مجھے یہاں آکر مرحوم ڈاکٹر پرویز اختر قریشی کی یادآگئی جو کہ میرے استاد بھی تھے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی ڈاکٹر پرویز اختر قریشی مرحوم اور ڈاکٹر بشیر قریشی مرحوم کو بھی جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آج کی تقریب کے خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں ڈاکٹر عشر ت نعیم بھٹی صاحب اور کمال لیبارٹریز کا جنہوں نے ہومیوپیتھس کو اگٹھا ہونے کا موقع فراہم کیا۔ اور یہ مثال قائم کی کہ ہم بھی اسی طرح ریفرینسز کریں جو کہ ہمارے دوست احباب بھی اس دینا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ مرحوم ڈاکٹر عابد راؤ صاحب سے جتنی بھی ملاقتیں ہوئی وہ کوہسار کالج میں ہی ہوئی اور ان سے گفتگو ہوئی تو وہ ایک سنجیدہ اور ذہین شخصیت کے مالک تھے انہوں نے بہت مختصر وقت میں ہومیوپیتھی میں اپنا نام بنایا۔ اور ہم سب کے لئے مثال چھوڑی۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر فیصل راؤ صاحب (بھتیجے ڈاکٹرعابد راؤ مرحوم) نے اپنی گفتگو میں کہا کہ میں ڈاکٹر عشر ت نعیم بھٹی اور کمال لیبارٹریز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے چچا ڈاکٹر عابد راؤ مرحوم کی خدمات کو یاد رکھتے ہوئے آج کا اجلاس رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جتنے بھی سینئر ہومیوپیتھس تشریف لائےہیں انہوں نے میرے مرحوم چچا کے متعلق جو باتیں کی اس سے انکی بھی روح خوش ہوئی ہوگی اور ہم بھی مشکور ہیں۔ انہوں نے اپنے لئے کچھ نہیں کیا ، ہمیشہ ہومیوپیتھی اور اپنے مریضوں کے لئے کام کیا ہے،اور ہومیوپیتھی کو ایلوپیتھی کے مقام پر لانا چاہتے تھے کہ لوگ ہومیوپیتھی کے بھی مدعا ہو جائیں۔ اسی وجہ سے وہ آج ہمارے دلوں میں زند ہ ہیں اور ہم ان کی بڑھائیاں بیان کر رہے ہیں۔ میں ایک بار پھر تمام شرکاء اور منتظمین کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آج کی تقریب منعقد کی۔
فرخ عابد راؤ(فرزند مرحوم ڈاکٹر عابد راؤ) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شرکاء اور منتظمین کا آج کی تقریب منعقد کرنے پر شکریہ ادا کیا، آپ سب میرے والد صاحب کی طرح ہومیوپیتھی کو آگے بڑھانے کے لئے کوشاں ہیں تو سب کے لئے دعا گو ہوں کہ آپ دکھی انسانیت کی خدمت کرسکیں۔ میرے والد صاحب کی ایک عادت تھی کہ انہیں جب بھی وقت ملتا تھا روزانہ کی بنیا د پر ہومیوپیتھک بکس لازمی پڑھتے تھے۔اور انسان جس پیشے سے منسلک ہوتا ہے اس میں کمال حاصل کرنا چاہئے۔ ایک بار پھر آپ سب کا بہت شکریہ۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر علی محمد صاحب(کلاسیکل ہومیوپیتھ) اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ شکر ہے اس رب کا جس نے مجھے انسان بنایا ، شکر ہے اس نبی کا جس نے مجھے راستے دکھائے اور شکر ہے ہانیمین کا جس نے مجھے ہومیوپیتھ بنایا، جو لوگ اپنے دوستوں کے احسانات کو تسلیم کرتے ہیں خداان پر بہت احسان کرتا ہے، میری آپ سے گزارش ہے کہ اگر ڈاکٹر عابد راؤمرحوم نے کوئی احسان کیا ہے تو اسے تسلیم کریں، اور یہاں جتنے بھی ہومیوپیتھس تشریف فرما ہیں اور جو بھی ہمین سن رہے ہیں ان کو چاہے آپس میں کو ئی بھی اختلاف ہو مگر ہومیوپتھی کے لئے ہم سے پہلے جتنے بھی لوگ گزرے ہیں ان کے احسانوں کو تسلیم کرنا چاہئے، یہ بات یاد رکھیں کہ مستقبل میں ہماری نسل یہ انتظار کررہی کہ ہم نے ان کے لئے کیا چھوڑا ہے اور کب ہمارے احسانوں کو تسلیم کریں گے، میری زندگی کی جدجہد اور جس پر میں بطور ہومیو پیتھ فخر محسوس کر تا ہوںاگر خدا مجھے ایک ہزار دفعہ زندگی دے تو میں ہومیوپیتھ ہی بنو گا۔ تمام شرکاء سے یہی گزارش ہے کہ وہ آنے والی نسل کے لئے جدید علم اور یہ عزت چھوڑ کر جائیں کہ تاکہ وہ ہمارے لئے بھی ریفرنس پیداکریں اور ہمارے احسانوں کو تسلیم کریں۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر خالد جاوید قریشی صاحب نے کہا کہ کمال لیبارٹریز اور ڈاکٹر عشرت نعیم بھٹی نے آج کی شاندار تقریب بہت ہی کم وقت میں منعقد کی اور اس میں آپ تمام کے اچھے تاثرات اور دعائیں قابل تحسین ہیں، ڈاکٹر عابد راؤ مرحوم نے ایک مختصر وقت میں جو اپ کے دلوں میں جو اعلی مرتبہ حاصل کیا وہ قابل تعریف ہے ہم ان کو اس ادارے کی طرف سے بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر اسد پرویز قریشی (منیجنگ ڈائریکٹر کمال لیبارٹریز) کا پیغام ہومیوپیتھک ڈاکٹر رضوان حمید نے پڑھ کر سنایا، ڈاکٹر عابد راؤ مرحوم ہومیوپیتھی سے محبت رکھنے اور علم پھیلانے والی شخصیت تھے، کمال لیبارٹریز ہمیشہ ایسی شخصیا ت کو سرہانے اور ان کا پیغام آگے پہنچانے کے لئے کوشاں رہے گی، یہ مشن مرحوم پروفیسر پرویز اختر قریشی صاحب کا بھی تھا کہ وہ ہومیوپیتھس کی علمی استعداد کو بڑھانے کے لئے مصروف عمل رہتے تھے، میری نیک تمنائیں ان کے خاندان کے لئے ہیں اور دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کی اولاد کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین، ہومیوپیتھک علم کے فروغ کے لئے کمال لیبارٹریز کا پلیٹ فارم ہمیشہ حاضر ہے۔
میزبان تعزیتی اجلاس ہومیوپیتھک ڈاکٹر رضوان حمید نے ایک شعر مرحوم کے نام منسوب کر کے پروگرام کے ناظم کو دعوت دی
دیکھ لو میں کیا کمال کرگیا ۔ زندہ بھی ہوں اور انتقال کر گیا
ہومیوپیتھک ڈاکٹر عشرت نعیم بھٹی (ہیڈ کمال ہیلتھ کئیر ونگ) میں تما م شرکاء کا انتہائی مشکور ہوں کہ وہ آج کے تعزیتی اجلاس میں تشریف لائے اور مرحوم ڈاکٹر عابد راؤ کو اپنے الفاظ سے خراج عقیدت پیش کیا، ڈاکٹر عابد راؤ کے حوالے سے مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ میرا سٹوڈنٹ تھا اور ابتدا میں ہی اس میں یہ جراثیم پیدا ہوگئے تھے کہ وہ علم سیکھنے کی باتیں کرتا تھا اور انہیں دیکھ کر یہ لگتا تھا کہ وہ کچھ نہ کچھ کرے گا۔ اور مجھ سے ہمیشہ پوچھتا رہتا تھا کہ یہ دواکیسے کام کرے گی ، علاوہ ازیں آج آپ سب کے آنے کا بھی مقصد یہی ہے کہ ہومیوپیتھی ترقی کرے اور یہ عابد راؤ کا بھی مقصد تھا، جیسا کہ سب نے کہا تو میرایہ کہنا ہے کہ ایک دوسرے سے پیار کریں کیونکہ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ اور ہمیں سیاسی تفریق کے بغیر ایک دوسرے کو سراہنہ چاہئے، میں زمانہ طالب علمی سے ہی اپنے تمام سینئر ز کو اگٹھا کر کے فکشنز کرتا تھا اور مقصد صرف یہ تھا کہ ایک دوسرے سے نالج شئیر کر سکیں، آج وہ نہیں ہے کل ہم نہیں ہوں گے ایک عجیب سی بات ہے کہ وہ وفات سے دو دن قبل میرے پاس آیا اور کافی باتیں کی میرے پاس بیٹھا ، تصویر بنائی ، گھر گیا پوسٹ لگائی اور اگلے دن صبح پھر مجھ سے بات کی پھر رات تک مجھ سے بات کرتا رہا اور اگلے دن صبح محترم ڈاکٹر افتخارصاحب کی وساطت سے معلوم ہو اکہ و ہ وفات پا گیا ہے ، میں یہاں آپ سب کے اگٹھے ہونے کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں، ہمیشہ ایک دوسرے سے ملیں اور پیار کریں،
تعزیتی اجلاس کےآخردعا مغفرت ہو ئی جس کی سعادت ہومیوپیتھک ڈاکٹر آفتاب حسن منہاس صاحب نے حاصل کی۔ افطار اور نماز مغرب کے بعد ڈنر کا اہتمام تھا ، تقریب کے اختتام پرگروپ تصاویر اور مرحوم ڈاکٹر عابد راؤ کی فیملی (بھتیجے اور بیٹے ) کی طرف سے ایک یادگاری شیلڈ ان کے استاد محترم ہومیوپیتھک ڈاکٹر عشرت نعیم بھٹی صاحب کو پیش کی گئی اور اسی طر ح ڈاکٹر عشرت نعیم بھٹی صاحب نے ان کے بھتیجے ڈاکٹر فیصل راؤ اور بیٹے فرخ عابد راؤ کو یاد گاری شیلڈ پیش کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں