258

ہجرت کرکے آنے والے پرندوں کی اقسام تقریبآ 380 ہیں، جن میں نمایاں تلور، عقاب، مختلف طرح کی چھوٹی بڑی مرغابیاں اور بطخیں، کونج، ہنس، نیل سر، سرخاب، مگ اور دیگر آبی پرندے شامل ہیں

World Migratory Bird Day
( May & Oct. every year)
*************
آج دنیا بھر میں "مسافر پرندوں کا عالمی دن” منایا جا رہا ھے. ہجرت کرنے والے پرندوں کی بقاء اور تحفظ سے متعلق آگاہی دینے کیلئے یہ دن سال میں دو دفعہ منایا جاتا ہے یعنی ہر سال مئی اور اکتوبر کے دوسرے ھفتہ کے روز ۔۔۔ اس دفعہ اس دن کا عنوان ہے:
"گاؤ، اڑو، اور اونچے اڑتے جاؤ – ایک پرندے کی طرح”، یعنی اڑو اور اڑتے چلو ۔۔۔۔
لیکن انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سرحدوں کی قید سے آزاد اڑتے چلے جانے والے اور ملکوں ملکوں پھرنے والے فطرت کے یہ خوبصورت سفیر پرندے ہم انسانوں کی جانب سے کئی قسم کے خطرات سے دوچار ہیں۔ اس تناظر میں معروف شاعر عبدالحمید عدم نے کیا خوب فرمایا تھا:

وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں

بلاشبہ قدرتی عطاء "ماحول” پر ھم انسانوں کی طرح پرندوں اور جانوروں کا بھی برابر کا حق ھے، ہاں ھم ان کو کتنی "سپیس” دیتے ہیں یہ”لمحہء فکریہ” ضرور ھے۔

ماہرین کے مطابق "بین الاقوامی” سطح پر نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے دو اہم "فضائی راستے” پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں۔ یہ پرندے سائبیریا وغیرہ سمیت مختلف سرد ترین ممالک سے ہجرت کر کے یہاں آتے ہیں۔ اس صورت میں بلاشبہ انسانوں کی طرح مسافر پرندوں کی "مہمان نوازی” بھی مقامی لوگوں کی ذمہ داری بن جاتی ھے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ہجرت کرنے والے پرندوں کی تعداد میں بتدریج کمی دیکھی جا رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ گزشتہ تقریبآ 3 دہائیوں میں ہجرت کرنے والے پرندوں کی آبادی میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور ان میں سے بہت سے پرندے اب معدومی کا شکار ہیں۔ بلاشبہ دنیا کے مسافر پرندوں کی بھاری اکثریت انسانی سرگرمیوں کے باعث غیر محفوظ صورتحال کا شکار ھے۔ اس لئے ان کی بقاء اور تحفظ کیلئے سنجیدہ کوششوں کی اشد ضرورت ھے۔

ان مہاجر و مسافر پرندوں کی تعداد میں کمی، ان کے قدرتی مسکن کی تنزلی، ہجرت کےلیے استعمال ہونے والے فضائی راستوں کے غیر محفوظ ہوجا نے اور مہمان علاقوں میں درپیش خطرات کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروانے کےلیے سال میں دو دفعہ "مسافر پرندوں کے عالمی دن” کا منایا جانا بذات خود اس ضمن میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے کا عندیہ دیتا ھے۔ ان مواقع پر مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور عوامی و سماجی حلقوں کی جانب سے آگاہی کیلئے واک اور سیمینار جیسی سرگرمیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن محدود پیمانے پر۔ مسافر پرندوں کے ساتھ ساتھ فطرت کے حسن کو چار چاند لگاتے، چہچہاتے اور گنگناتے کچھ مقامی پرندے بھی معدومیت کا شکار ہیں۔ اس ضمن میں اگر علاقہ تھل کی بات کریں تو پرندوں سے پیار کرنے والے کچھ زندہ دل اور متحرک لوگ مقامی سبز طوطے کا نوحہ گاتے اور اس کے تحفظ کیلئے آواز اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ عوامی حلقوں کی طرف سے ایسا ماحول دوست اور فطرت پسندانہ رجحان نا صرف خوش آئند بلکہ حوصلہ افزاء بھی ہے۔

پاکستان آنے والے مسافر پرندے جو فضائی راستہ اختیار کرتے ہیں اسے ’’انڈس فلائی وے‘‘ یا گرین روٹ کہا جاتا ہے۔ اس فضائی راستے کا عالمی نام ’’انٹرنیشنل مائیگریشن روٹ نمبر 4‘‘ بھی ہے۔
ہجرت کرکے آنیوالے یہ پرندے پاکستان کے طول و عرض میں موجود چھوٹی بڑی آب گاہوں میں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔
وسطی ایشیا، مغربی یورپ، مشرقی سائبیریا اور روس سے ہجرت کر کے آنے والے یہ پرندے ہر سال پاکستان کو اپنا عارضی مسکن بناتے ہیں۔ ان کی آمد اب زیادہ تر نومبر میں شروع ہوتی ہے جبکہ مارچ میں ان کی واپسی کے سفر کا آغاز ہوجاتا ہے۔

پہلے یہ آمد اکتوبر میں شروع ہوجاتی تھی لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پرندوں کی ہجرت کے رجحانات میں بھی تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں مسافر پرندوں کے قیام کے دورانیے میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق وطن عزیز میں ہجرت کرکے آنے والے پرندوں کی اقسام تقریبآ 380 ہیں، جن میں نمایاں تلور، عقاب، مختلف طرح کی چھوٹی بڑی مرغابیاں اور بطخیں، کونج، ہنس، نیل سر، سرخاب، مگ اور دیگر آبی پرندے شامل ہیں۔

پاکستان سے گزر کر بعض اقسام کے ہجرتی پرندے انڈیا اور سری لنکا تک بھی جاتے ہیں۔
آب گاہوں اور وہاں آنے والے ہجرتی پرندوں کے تحفظ سے متعلق ’’رامسر کنونشن‘‘ کے تحت پاکستان میں 20 رامسر سائٹس موجود ہیں جن میں سے سندھ میں 10، خیبر پختونخوا میں 2، پنجاب میں 3 جبکہ 5 سائٹس بلوچستان میں پائی جاتی ہیں۔ رامسر سائٹس ایسے آبی علاقوں کو کہتے ہیں جہاں ایک وقت میں 20 ہزار یا اس سے زائد ہجرتی پرندے قیام کرتے ہوں۔

پاکستان آنے والے مہمان پرندوں کی زیادہ تر تعداد کینجھرجھیل، ہالیجی جھیل، انڈس ڈیلٹا اور رن آف کچھ کے مقامات پر پڑاؤ ڈالتی ہے۔ مسافر پرندوں کے دیگر عارضی نمایاں مسکن چشمہ بیراج، تونسہ بیراج، نمل جھیل، اچھالی جھیل ، کھبیکی جھیل (وادی سون) چھالر جھیل، کلر کہار، رسول بیراج، ہیڈ قادر آباد اور ہیڈ مرالہ وغیرہ ہیں۔ شاید انھی پرندوں جیسے مسافروں کیلئے ہی احمد فراز نے کہا تھا:

نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں
عجب سفر ہے کہ بس ہم سفر کو دیکھتے ہیں۔

اب وقت کی اھم ضرورت یہ ھے کہ متعلقہ قوانین اور معاہدوں کی روشنی میں فطرت کے بین الاقوامی سفیروں یعنی مسافر پرندوں کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی تعاون یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

اس دعا کے ساتھ کہ اللہ کرے وطن عزیز پاکستان ان پرندوں کے لئے ہمیشہ ’محفوظ‘ جنت بنا رھے۔

خیر اندیش: ایک مسافر: ذوالفقارعلی جھمٹ، اسلام آباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں