684

ھارتی حکومت، BJP-RSS کے گٹھ جوڑ کے زیر اثر، چوتھے جنیوا کنونشن سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی کر رہی ہے

وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا یوم استحصال (5 اگست 2022) پر پیغام

بھارت کے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات، مسلسل غیر انسانی فوجی محاصرے اور کشمیری عوام کے ناقابل بیان مصائب پر بے حسی کو جاری رکھے ہوئے تین سال ہوچکے ہیں.

بھارتی حکومت، BJP-RSS کے گٹھ جوڑ کے زیر اثر، چوتھے جنیوا کنونشن سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی کر رہی ہے. مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے اپنے ‘ہندوتوا’ ایجنڈے کو بے شرمی اور ڈھٹائی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ بھارت کی آبادکاری کی استعماری سوچ کا محرک متنازعہ علاقے پر مستقل طور پر قبضہ کرنے اور کشمیریوں کے علیحدہ تشخص کو ختم کرنے کی ہوس ہے۔

بھارتی قابض افواج نے 5 اگست 2019 سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور میڈیا پر کڑی پابندیاں لگا کر، مقبوضہ جموں و کشمیر کو کرہ ارض کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال گزشتہ تین سالوں کے دوران سنگین طور پر ابتر ہوئی ہے۔ کشمیری عوام ابھی تک فوجی محاصرے میں ہیں، ان کی اعلی حریت قیادت بدستور قید ہے اور ان کے نوجوان بھارتی قابض افواج کی جانب سے محاصرہ اور تلاشی آپریشنز کے ذریعے اندھا دھند ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ درحقیقت کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق اور ہر قسم کی آزادی سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔

جیسا کہ توقع تھی، کشمیری عوام نےبڑی جرات اور دلیری سے اپنے خلاف بھارتی مظالم کی مہم کو ناکام بنایا ہے۔ پاکستان نے کشمیریوں کے جائز مقصد کے حصول کے لیے ان کی ہر ممکن مدد کی ہے۔ پارلیمنٹرینز، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اور بین الاقوامی برادری کے اراکین نے مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی جاری سنگین خلاف ورزیوں پر مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ بھارت ایک بار پھر ایک جارح اور غاصب کے طور پر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔

یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت انسانی وقار، انصاف اور انصاف کے عالمی نظریات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی اپنے حق خودارادیت جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے تحت دی گئی ہے کے حصول کی منصفانہ جدوجہد، کو بھارتی قابض افواج کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے دبایا جا رہا ہے۔

یہ کشمیری عوام کی بے مثال قوت ارادی اور ہمت ہے جس نے انہیں دہشت گردی اور محکوم بنانے کی ہر بھارتی کوشش کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا ہے۔ بھارت اپنے تمام جبر، تشدد اور دھمکانے کے طریقوں کے باوجود ان کی آزادی کی تڑپ کو بجھانے اور ان کی مقامی اور جائز مزاحمت کو کچلنے
میں ناکام رہا ہے۔جموں و کشمیر کا تنازعہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے۔ اس دیرینہ تنازعہ کو فوری اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔

جیسے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر کا محاصرہ چوتھے سال میں داخل ہو رہا ہے، کشمیر کے لوگ بنیادی حقوق آزادی اور انسانی وقار کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں بھارت کے مظالم کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کے لیے اپنی حمایت کرنے والوں کی طرف امید دیکھ رہے ہیں ۔ درحقیقت، عالمی برادری کو بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے، آبادیاتی تبدیلیوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے، تاکہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر فوری عمل درآمد کے ذریعے اپنے حق خودارادیت کا استعمال کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

پاکستان اپنی طرف سے اپنے ان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی آواز بنا رہے گا، جن کی لازوال قربانیاں اس وقت بھی جاری ہیں ، اور ہم ان کے جائز حقوق کے مکمل حصول کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن حل سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں