258

کلورکوٹ میں صحافی پر تشدد،دریاخان کے صحافی سراپا احتجاج

دریاخان۔۔ رانازاہدشریف پرحملہ آزادی صحافت پرحملہ ہے۔جرائم کی نشاندہی پر وحشیانہ تشدد کسی صورت قبول نہیں۔ ان خیالات کااظہار ورکنگ جرنلسٹ فورم کے زیراہتمام سانحہ کلورکوٹ پرمنعقدہ احتجاج سے خطاب میں کیا۔ تحریک منہاج القرآن کے رہنما ڈاکٹر محداسلم خان نے کہا کہ ظلم وتشدد کا کوئی بھی رویہ قابل قبول نہیں کہلاسکتا۔صحافی برادری سے زیادتی پردل رنجیدہ ہے۔ پولیس مجرمان کوکیفرکردار تک پہنچائے۔ جماعت اسلامی کے رہنمانویداحسن نیازنے واضح کیا۔کہ جرائم پیشہ عناصر کی دیدہ دلیری قانون نافذ کرنے والے اداروں کمزوری کوظاہر کرتی ہے۔کلورکوٹ واقعہ کے پس پردہ تمام کرداروں کو بے نقاب کیاجانا اشد ضروری ہے۔صحافی برادری اس حادثہ کے بارے مستقبل میں جوبھی لائحہ عمل اختیار کرے گی۔جماعت اسلامی ہرمحاذ پرساتھ ہوگی۔ رہنمانوانی یوتھ ونگ ملک انتظار شاکر نے کہاکہ رانازاہدشریف پرحملہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ملزما ن کوکیفرکردار پہنچانے تک صحافی برادری کے قدم بقدم ساتھ ہونگے۔ سینئرصحافی ملک مہرالدین ایوبی نے واقعہ کودرندگی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے واضح کیا۔ کہ صحافی معاشرے کی آنکھ ہوتاہے۔ معاشرتی ناسوروں کوصحافی کاکردار کبھی بھی برداشت نہیں ہواکرتا۔مگر افسوس کاامر ہے کہ پولیس کاکردار قابل تعریف نہیں نظرآیا۔ سینئرصحافی صفدر حسین عاصم نے کہاکہ اگر مقامی پولیس بروقت ان جواریوں کے خلاف ایکشن لیتی تو یہ افسوسناک واقعہ رونمانہ ہوتا۔ڈی پی او بھکر کی میرٹ پسندی کاامتحان ہے۔ کہ وہ اس واقعہ کے پس پردہ تمام کرداروں کوبے نقاب کرکے کیفرکردار تک پہنچائیں۔صحافی برادری ملزمان کوانجام تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گی۔ احتجاج میں جماعت اسلامی۔ تحریک منہاج القرآن۔ نوانی یوتھ ونگ۔ ینگ تاجران۔ پریس کلب دریاخان۔ تحصیل پریس کلب۔ ہارڈ ورکنگ جرنلسٹ ۔ نیوسٹی پریس کلب سمیت شہریوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں