255

کرنٹ جیسی تکلیف دینے والا خطرناک ترین پودا….

کرنٹ جیسی تکلیف دینے والا خطرناک ترین پودا

قدرت کے کارخانے میں ایسے بہت سے حشرات الارض (کیڑے مکوڑے) موجود ہیں جن کا کاٹا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے اور اس کا کرب مدتوں یاد رہتا ہے۔ لیکن آج ہم بات کریں گے آسٹریلیا میں پاٸے جانے والے پودے *”جمپی جمپی“* کی۔

”جمپی جمپی“ آسٹریلیا میں پایا جانے والا بظاہر ایک عام سا پودا ہے، لیکن..!! اگر یہ آپ کے بدن سے چھو جائے تو ایک ہی وقت میں بجلی کے جھٹکے، تیزاب اور گرم پانی سے جلنے جیسی تکلیف ہوتی ہے اور اکثر اوقات یہ تکلیف اپنے چھونے والے کو خودکشی کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

یہ بات ہے 1866 کی جب Quensland میں روڈ سروٸیر کی ڈیوٹی پر تعینات ‘میکسملین’ کا گھوڑا اس پودے کے ساتھ جا لگا۔ گھوڑے کا پودے کے ساتھ لگنا تھا کہ اس پر درد کی شدت سے پاگل پن جیسے دورے پڑنے لگے اور گھوڑا 2 گھنٹوں میں ہی مر گیا۔ یہ بات میکسمیلن نے اپنے افسر کو رپورٹ کی۔ وہاں کے مقامی لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی تو یہ ظاہر ہوا کہ ایسا کئی بار انکے گھوڑوں اور مال مویشیوں کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ کئی گھوڑے ایسے بھی تھے کہ انہوں نے پہاڑ کی چوٹیوں پر چڑھ کر خودکشی کر لی۔

دوسری جنگِ عظیم کے لئے ٹریننگ کے دوران ایک فوجی جمپی جمپی پودے سے جا لگا، کچھ منٹوں میں وہ درد سے کراہنے لگا اور اسے اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں کی انتھک محنت کے باوجود بھی اس کا درد کم نہ ہوا۔
ٹریننگ کے دوران ایک اور فوجی افسر بھی اسی پودے کے ساتھ
لگ گیا اور درد کی شدت سے چھٹکارا پانے کے لئے خود کو گولی مار لی۔

درد کی شدت کئی مہینوں اور بعض اوقات سالوں تک ہوتی ہے۔ اس پودے کا حیاتیاتی نام ”ڈینڈرو سنائیڈ موریو ڈیس“ ہے جو آسٹریلیا کے جنوبی ویلز میں عام پایا جاتا ہے۔ اس کے پتے دل کی شکل کے اور پھل خوبصورت بنفشی رنگ کے ہوتے ہیں۔ بظاہر بے ضرر لگنے والے اس پودے کے پتوں پر بہت باریک بال نما ابھار ہوتے ہیں جو سوئیوں کی طرح سخت ہوتے ہیں۔ یہ سوئیاں چمڑے کے ساتھ لگتے ہی اپنے اندر موجود نیوروٹوکسن خارج کرتی ہیں جس سے درد، جلن اور بجلی کے جھٹکوں جیسی تکلیفات ہونے لگتی ہیں۔ یہ پودا اتنا خطرناک ہے کہ اگر بغیر ماسک پہنے اس کے نزدیک کچھ دیر کے لیے کوئی کھڑا ہو جائے تو اس پودے سے خارج ہونے والے نیورو ٹوکسن ناک سے خون بہنے کا سبب بنتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں