865

ڈھانڈلہ خاندان نے پاکستان بننے سے پہلے 1946 میں سردار افضل خان ڈھانڈلہ کی زیرقیادت اپنےسیاسی سفر کا آغاز کیا

تاریخ کے جھرونکوں سے
ڈھانڈلہ خاندان نے پاکستان بننے سے پہلے 1946 میں سردار افضل خان ڈھانڈلہ کی زیرقیادت اپنےسیاسی سفر کا آغاز کیا.سردار افضل خان ڈھانڈلہ پاکستان بننے کے بعد 1951 میں پہلی دستور ساز اسمبلی میں بلا مقابلہ ایم ایل اے منتخب ہوئے.انہوں نے بھکر کے عوام کی بلاامتیاز خدمت کی انکی وفات کے بعد انکے بھتیجے سردار غلام حسن خان ڈھانڈلہ نے اپنے چچا کے مشن کو جاری رکھنے کیلیے سیاسی میدان میں قدم رکھا 1965 میں سردار غلام حسن خان ڈھانڈلہ بھکر میونسپل کمیٹی کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہوئے شہری و دیہی علاقوں میں عوام کی بہتری کیلیے اپنی توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے بہتر سے بہترین کی جستجو جاری رہی 1970 میں سردار غلام حسن خان ڈھانڈلہ بھکر سے قومی اسمبلی کی نشست سے ایم این اے منتخب ہوئے انکے ساتھ ایم پی اے کی نشست پر مرحوم کیپٹن احمد نواز خان نوانی ایم پی اے کی نشست پہ الیکشن میں کامیاب ہوئے کیپٹن احمد نواز نوانی اپنے خاندان سے پہلی شخصیت تھے جو ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے (یہاں یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ آیا نوانی خان نے ڈھانڈلہ خاندان کو سیاست میں متعارف کروایا یا ایسے دعوے کرنے والوں کے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ڈھانڈلہ خان کی مرہون منت رہا ہے)
1976 میں سردار غلام حسن خان ڈھانڈلہ دوسری مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر بنے
1979میں سردار غلام حسن خان ڈھانڈلہ مجلس شوریٰ کو رکن منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے تاریخ کو مسخ کرنے والے یہاں بھی اپنی تصحیح فرمالیں کہ بھکر تحصیل کو ضلع کا درجہ دلوانے کا سہرا بھی اس وقت کی مجلس شوریٰ کے رکن سردار غلام حسن خان ڈھانڈلہ کے سر جاتا ہے انہی کی کوششوں سے بھکر تحصیل کو ضلع کا درجہ حاصل ہوا.
اپنے والد کی وفات کے بعد سردار ظفراللہ خان ڈھانڈلہ نے 1988 میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست سے الیکشن لڑا اور مخالفین کو شکست سے دوچار کیا 1990 اور 1997 میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی سردار ظفراللہ خان ڈھانڈلہ کا مقدر بنی اور انکے مخالف امیدوار رشیداکبر نوانی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا.ضلع بھکر سے پہلے سینیٹر بننے کا اعزاز بھی سردار ظفر اللہ خان ڈھانڈلہ کو حاصل ہے.ڈھانڈلہ خاندان 35 سال اچھے برے وقت میں مسلم لیگ ن کا حصہ رہا وقت گزرتا رہا اتار چڑھاؤ آتے رہے 2013 اور 2018 کے الیکشن میں یکے بعد دیگرے کامیابی ڈھانڈلہ خاندان کے فرزند ڈاکٹر افضل خان ڈھانڈلہ کے حصے میں آئی اور شکست نے مخالف گروپ کو گلے لگایا ڈاکٹر افضل خان ڈھانڈلہ اپنی خاندانی روایات کو جاری رکھتے ہوئے وہ اپنے حلقے کے ایم این اے کی حیثیت سے عوام کی فلاح ترقی اور خدمت کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں

جو سیاسی نابالغ بھکر کی عوام کو گمراہ کرنے کیلیے سنی سنائی باتوں کا حوالہ دے کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ اگر تاریخ کا بغور جائزہ لیں تو انہیں نوانی خاندان ڈھانڈلہ گروپ کی چھتری تلے کھڑا دکھائی دے گا
یہاں اس حقیقت سے روشناس کروانا بھی ضروری ہے کہ آج ڈھانڈلہ خاندان کو 1988میں سیاست میں متعارف کروانے کا کریڈٹ لینے کی ناکام کوشش کرنے والے اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو انکی آنکھوں پہ پڑی بغض اور حسد کی پٹی اترنے کے بعد انہیں معلوم ہوگا کہ ڈھانڈلہ خان کا سیاسی کیریئر پاکستان بننے سے پہلے ہی 1946 سے شروع ہوچکا تھا اور نہ صرف نوانی خاندان بلکہ بھکر کے تمام سیاسی خاندانوں کو سیاست میں لانے والا بھی ڈھانڈلہ خاندان ہی تھا

حقائق جان کر جیو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں