314

ڈاکٹر شیر علی انتہائی زیرک منتظم اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل معلم ہیں انھوں نے ’’بر طانیہ میں اردو شاعری‘ ‘ کے موضوع پر پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ڈاکٹریٹ کی

عبدالعزیز انجم سے۔۔۔

استاذگرامی،محترم ڈاکٹر شیر علی کو ان کی کتاب ’’توصیف تبسم : شخصیت اور فن ‘‘ کی اشاعت پر مبارکباد
استاذ محترم ڈاکٹر شیر علی صاحب ،انتہائی زیرک منتظم اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل معلم ہیں ۔ علم و اد ب کے دلدادہ اور باغ و بہار شخصیت کے مالک ہیں ۔انھوں نے ’’بر طانیہ میں اردو شاعری‘ ‘ کے موضوع پر پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ڈاکٹر یٹ کی ۔ان کے پچیس سے زائد تحقیقی مقالات مختلف قومی و بین الااقوامی رسائل میں شائع ہو چکے ہیں ۔و ہ تیس سے زائد قومی و بین الا قوامی اردو کانفرنسز میں شرکت کر چکے ہیں ۔ادارہ فروغ قومی زبان ( مقتدرہ قومی زبان ) اور اکا دمی ادبیات میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر فرائض سر انجام دے چکے ہیں ۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ الحمداسلامک یونیورسٹی کےیسر چ جرنل’’الحمد‘‘ کے ایڈیٹر ہیں ۔شعبہ اردو ،فیڈرل یونیورسٹی ، اسلام آبادمیں تدریسی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ شعبہ اردو الحمداسلامک یونیورسٹی ،اسلام آباد میںبطور صدر شعبہ اردو ، تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔

الحمداسلامک یونیورسٹی ،اسلام آباد میں شعبہ اردو کے ایم ۔ فل اور پی ۔ایچ ۔ڈی اسکا لر کے لئے قومی اور بین الاقوامی کانفرنسز کا اہتمام ،اردو ادب کی نامور شخصیات کے اعزاز میں تقاریب کا انعقاد،اہم کتب کی تقریب رونمائی ، عالمی مشا عروں اور مختلف قومی ایام یوم آزادی ، یوم دفاع ، یو م کشمیر وغیرہ پر تقاریب کے اہتمام ، طلباکی رہنمائی اور فلا ح و بہبود کے لئے ہمہ وقت متحرک رہتے ہیں ۔

ان کی خصوصی دلچسپی اور کاوشوں کی بدولت ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی،پرو فیسر فتح محمد ملک ، ڈاکٹر تحسین فراقی،ڈاکٹر انوار احمد ، ڈاکٹر محمد اشرف کمال ،ڈاکٹر خالد سنجرانی،ڈاکٹر طارق ہاشمی ،پرو فیسر جلیل عالی ، افتخار عارف ، ڈاکٹر احسان اکبر ، ڈاکٹر سعادت سعید ،باصر کاظمی، ڈاکٹر ضیا ء الحسن،ڈاکٹر بصیرہ عنبرین ،ڈاکٹر قاضی عابد(مرحوم )،ڈاکٹر توصیف تبسم ،ڈاکٹر خورشید رضوی ، ڈاکٹر ریاض مجید ، امجد اسلام امجد ، ڈاکٹر خلیل طوقار ( ترکی ) ،ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم ( مصر ) ،ڈاکٹر محمد کیو مرثی ( ایران ) ،ڈاکٹر وفا یزدان منش ( ایران ) ، ڈاکٹر نواب حیدر نقوی ( امریکا ) ،ڈاکٹر خالد عباس اسدی ( مد ینہ منورہ) ،ڈاکٹر احمد محفوظ ( بھارت ) ،غز ل انصاری ( بر طانیہ ) ،شبانہ یوسف ( برطانیہ ) ، ناہید ورک ( امریکا ) ،ڈاکٹر فرحت شیریں ( امریکا ) ،ڈاکٹر ولا جمال ( مصر) ،ڈاکٹر سید تقی عابدی (کینیڈا)،ڈاکٹر دائودشہباز ( ترکی )،ڈاکٹر محمد عارف خان ( بر طانیہ )،ڈاکٹر علی ابیات (ایران )،ڈاکٹر علی کا ئو سی نژاد( ایران ) ،ڈاکٹر آصف زہر ی ،( انڈیا) ڈاکٹر علی بیات ( ایران ) ،ڈاکٹر فاطمہ حسن ، ڈاکٹر مقصود جعفری ، یا سر علی سید ، یاسمین حمید ، ڈاکٹر عزیز احسن ،منصور آفاق ، سعود عثمانی ،ڈاکٹر جاوید منظر ،ڈاکٹر اختر شمار ، عبا س تابش ، شکیل جاذب ، حمید ہ شاہین ، ڈاکٹر آفتاب مضطر ، شازیہ اکبر ، ڈاکٹر نبیل احمد نبیل ، اسحاق وردک ،اصغر ندیم سید ، محمد حمید شاہد ، ، پرو فیسر ادریس آزاد، ،فرمان اللہ انجم ، ڈاکٹر اکرام الحق،ڈاکٹر امجد طفیل ، منیب اقبال ، پرو فیسر ڈاکٹر شاہانہ عروج کاظمی ، ڈاکٹر افضال بٹ ، ڈاکٹر وسیم انجم ، ڈاکٹر سعدیہ طاہر ، فرحین چودھری ، عکس مفتی ، ڈاکٹر طلعت شبیر ، میاں وقار ، پرو فیسر آسیہ میر ، ڈاکٹر اقبال آفاقی،ڈاکٹر ناصر عبا س نیئر،ڈاکٹر فرزانہ اعظم،ڈاکٹر محمد سعید ،ڈاکٹر یاسمین سلطانہ ، ڈاکٹر ایو ب صابر ،نسیم سحر ، خالد مسعود ،جہاں آرا تبسم ،پر وفیسر ڈاکٹر روش ندیم ، پر وفیسر محمد ارشد سلیم ، حفیظ خان ،پرو فیسر ڈاکٹر منور ہاشمی ، ڈاکٹر نثار ترابی ، ڈاکٹر صدف نقوی ، ڈاکٹر عامر ظہیر ، ڈاکٹر بشریٰ علم الدین ، ڈاکٹر محمد امتیاز ، ڈاکٹر محمد ناصر آفریدی جیسی نامور قومی اور بین الاقوامی شخصیات الحمداسلامک یونیورسٹی کی مختلف تقاریب رونق بخش چکی ہیں ۔

تنقید اور تحقیق کے حوالہ سے ڈاکٹر توصیف تبسم ایک معتبر حوالہ ہیں ۔ غزل اور نظم ان کی تخلیقی شخصیت کی اسا سی پہچان ہے ۔ گزشتہ سات دہائیوں سے اردو غزل ،نظم اور حمد ونعت اور منقبت میں وہ اپنے تخلیقی جو ہر دکھا رہے ہیں ۔ ڈاکٹر شیر علی صاحب نے ا س کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلا باب سوانح حیات کے حوالے سے ہے جس میں ڈاکٹر توصیف تبسم کی پیدائش،خاندان ،مہاجرت ، تعلیم ،ملازمت ، ازدواجی زندگی اور ادبی سفر کے بارے بیان ہے ۔ دوسرے باب میں ان کی شاعر ی کے حوالے سے بطور غزل گو شاعر ، نظم نگاری ، حمد ، نعت ، منقبت ،سلام اور بچوں کی شاعری کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے ۔

تیسرا باب ڈاکٹر توصیف تبسم کی تحقیقی و تنقیدی خدمات کے حوالے سے ہے ۔ اس میں ان کی کتب ’منیر شکوہ آباد ی : احوال و آثار، یہی آخرکو ٹھہرا فن ہمارا ، خاکہ نگاری اور اقرار حسین شیخ کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ چوتھے اور آخری باب میں دیگر متفرق اصناف بند گلی میں شام ( یا دداشتیں ) ،کہاوت کہانی کاجائزہ لیا گیا ہے۔ اسی باب میں ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کلام اور ان کے بارے معاصرین کی آرا کو بھی کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے ۔۲۶۹ صفحات پر مشتمل اس کتاب کو اکادمی ادبیات ،پاکستان نے شائع کیا ہے ۔ ڈاکٹر شیرعلی صاحب کی یہ کتاب ڈاکٹر توصیف تبسم کی شخصیت اور فن کااختصار مگر جامعیت کے ساتھ مکمل احاطہ کرتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں