240

چنے کا استعمال مختلف غذاٸی ایٹمز میں مختلف

ملک عتیق اعوان سے
ویسے چنے کا استعمال مختلف غذاٸی ایٹمز میں مختلف طریقوں سے ہوتاہے اور ہر رنگ میں پسند کیا جاتا ہے۔لیکن بھکر کے ”اٹھاڑ“ یعنی مغربی دیہی علاقوں میں اسکا استعمال دیگچی میں پکانے سے ہٹ کر بھُننے پرزیادہ اکتفا سےہوتا ہے اور اس پراسس کو سراٸیکی میں ”تریڑا“کہتے ہیں۔اس بھُننے کے عمل میں سبز چنے کی بیلوں کو سخت لکڑی یا سیخ میں ڈال کر سوکھی ٹہنیوں یا جنتر کی ڈنٹھ(جسے سراٸیکی میں لمبی کہا جاتا ہے) پر ایک فٹ کی بلندی پہ نیم آگ پہ جلایا جاتا ہے۔جیسے ہی چنے کے سبز رنگ کے خول کالے رنگ میں جل کر نیچے گرتے ہیں تو کھانے کے لۓ ہلابول دیا جاتا ہے۔کھانے کا عمل نہایت دلچسپ اور سراٸیکی کلچر کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔تریڑے کے لۓ درج ذیل باتوں کا جاننا واجب نہیں بلکہ اوجب ہے:
١:تریڑا جتنا بھی کھایا جاۓ اس سے پیٹ نہیں بھرتا.
٢:تریڑا ٹھنڈا ہونے سے پہلے ختم ہوجاتا ہے جسکا سب سے زیادہ نقصان بیضوی شکل میں آگے بیٹھے بچوں کو ہوتاہے۔
٣:تریڑے سے عورتوں کو بالجبر دور رکھا جاتا ہے کیونکہ وہ شاپر اور خالی برتن بھرنے کا لالچ رکھتی ہیں۔
٤:تریڑا ہمیشہ گھر کی چاردیواری کے باہر خفیہ طور پر لگایا جاتا ہے تاکہ ہمسایہ کے بچوں کو ایڈیا نہ ہو۔
٥:تریڑے کے شروع میں جن چھوٹے دانوں کو نظرانداز کیا جاتاہے اختتام پر کچھ نہ ملنے پہ انہی دانوں کو مٹی اور راکھ سمیت کھایا جاتا ہے۔
٦:جیسے ہی تریڑا ختم ہوتا ہے کھانےوالے کی پوزیشن کوٸلے کی کان میں کام کرنے والے مزدور کیطرح ہوتی ہے۔
٧:جن لوگوں کے گھروں میں بکریاں کثرت سے ہیں انکے لۓ تریڑا لگانا جہاد سے کم نہیں ہوتا کیونکہ اکثرو بیشتر بکریوں کے”مینگن“ اور چنے کے دانوں کی تفریق صرف زبان پہ لگنے سے محسوس ہوتی ہے۔
٧:تریڑا چاہےجتنے بھی خفیہ طریقے سے لگایا جاۓ کھانے والے ہمیشہ ایک محدود تخمینے سے زاٸد ہوتے ہیں۔
٩:تریڑا ہمیشہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کھایا جاتا ہے تاکہ ہاتھ کی رساٸی مخالف سمت میں بیٹھے بندے کے حصے تک ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں