241

پانچ افرادکی المناک موت کی بے وقعتی کااس سےبڑا ثبوت کیاہوسکتاہے

نصیر ناصر دریاخان۔۔۔

#خس_کم_جہاں_پاک 😭
بھکرکی دومختلف سڑکات پرایک ہی دن میں پانچ افرادکی المناک اموات کی بے وقعتی کااس سےبڑا ثبوت کیاہوسکتاہے کہ دودن گذرجانےکےباوجود نہ توموت کی لوٹ سیل لگائے سڑکوں کے کھڈے بھرنے کاکوئی تحرک نظرآیا۔نہ سیاسی یا انتظامی ذمہ داران کی طرف سے اس عنوان پرلب کشائی کی کوئی ضرورت محسوس کی گئی۔
آخر سیاسی یاانتظامی ذمہ داران ایسے واقعات پرکیونکرافسردہ ہوں۔اور انکے تدارک اور روک تھام پرتحرک کریں۔کہ مرنے والے بھلا ان کے کیالگتے ہیں؟ بلکہ المیہ تو یہ بھی ہے کہ وہ جن کے کچھ لگتے تھے۔انہوں نے بھی تو ان واقعات کوقدرت کالکھاسمجھ کر برداشت کرلیا۔اورایک لمحےکیلئے بھی اس قتل عمدکے ذمہ داران کوکٹہرےمیں لانےکاسوچابھی نہیں۔
کتنے خوش نصیب ہیں ہمارے سیاسی لیڈرکہ دنیابھر کےجس کام کا کریڈٹ بھی لیناچاہیں توروزانہ کی بنیاد پرلاشے اٹھانے والے یہی لوگ بھی بھنگڑے ڈال ڈال کر ان کے کارناموں کودنیابھر سے منوانے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں۔مگران سے یہ سوال کرناگناہِ عظیم سمجھتے ہیں۔ کہ کُچلی اور مَسلی ہوئی نعشوں میں تبدیل ہوئےہمارےان پیاروں کاقصورکیاتھا؟ اور یوں سڑکوں پران کو مار دیئے جانے کامجرم کون ہے؟
کوئی ضلع کےمختارکُل ڈپٹی کمشنرسے یہ پوچھنےوالا نہیں۔کہ آپ تو ضلع کی عوام کے جان ومال کے محافظ اور باپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔اور کروڑوں کے سالانہ فنڈز اسی عوام کی زندگی بہتر اور محفوظ بنانے کیلئےآپ کی دسترس میں ہونے کے باوجود اتنی مصروف اور اہم سڑکات کی تباہ حالی کاذمہ دار کون ہے؟
کوئی محکمہ ہائی وے کے کردار پرانگلی اٹھانے والا نہیں۔کہ سڑکوں کی مرمت کے نام پر سالانہ کروڑوں روپے کی رقوم کس کی جیب میں جارہی ہیں ؟
جن بیلداروں کےنام پرسرکاری خزانےسے ماہانہ لاکھوں روپےتنخواہوں کی مدمیں نکلوائےجاتےہیں۔وہ کس سیارےپرڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔اور برباد سڑکوں کو قابل استعمال بنائے رکھنے کی ذمہ داری کس پر ڈالی گئی ہے ؟
کوئی محکمہ ٹریفک پولیس سے نہیں پوچھے گا کہ بغیر تربیت اور ڈرائیونگ لائسینس موت بانٹنے والے ان ڈریکولاؤں کوسڑکوں پر آنے کی اجازت کیسے مل جاتی ہے؟ اور ان کی روک تھام کیوں نہیں ہوسکتی ؟
عوامی ہمدردی کے ان نام نہاد جھوٹے دعویداروں سے کوئی بازپرس نہیں کرے گاجو ہرمعاملہ میں چوہدری بننے کوتو موجود ہوتے ہیں۔مگر ان اموات پر ان کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں۔
مگرشاید قصوران میں سے کسی کاہےہی نہیں۔ہم جیسے کیڑے مکوڑوں کی آخر حیثیت ہی کیاہے کہ ہمارا مرنابھی کوئی مسئلہ بن سکے؟
بےقیمت، بےحیثیت لوگ۔ جن کازندہ رہنا سوائے زمین کی پشت پرغیرضروری بوجھ کے اور کچھ بھی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں