272

وہ وقت تھا جب سیاسی_شدت_پسندی نے جڑیں نہیں پکڑیں تھیں۔پٹواری اور یوتھیا ذہنوں کی پیدائش بھی نہیں ہوئی تھی

یہ وہ وقت تھا جب ابھی #سیاسی_شدت_پسندی نے جڑیں نہیں پکڑیں تھیں۔#پٹواری اور #یوتھیا ذہنوں کی پیدائش بھی نہیں ہوئی تھی ۔سیاست میں برداشت،رواداری اور احترام کا پہلو ابھی باقی تھا۔ تنقید کے جواب میں ننگی گالیوں کی بجائے دلیل کا کلچر بھی باقی تھا۔گو کہ حکومتی عدم استحکام اس وقت بھی موجود تھا مگر سیاست کو #کوٹھے_کی_رنڈی اور #غلاغت_کا_ڈھیر کسی نے نہیں بنایا تھا۔سیاسی مخالف کے پیارے کی لاش پر بھی تبرہ کرنے اور گالی گلوچ کرنے کرنے کی بجائے شدید نظریاتی اختلاف کے باوجود اپنے مخالف کے دکھ درد میں شریک ہونے کی خوبصورت روائت بھی باقی تھی۔سیاست میں تہذیب، تمیز اور سیاسی زعماء میں سیاسی سوجھ بوجھ باقی تھی۔لوگ ابھی سیاسی نظریات کو لے کر بارود کے ڈھیر پر نہیں بیٹھے تھے۔ قوم کو پروپیگنڈہ سے متاثر کر کے تقسیم کرنے والے پرائیویٹ چینل بھی نہیں آئے تھے۔ کہ اچانک سیاست سے متانت سنجیدگی اور شائستگی رخصت ہوئی اور سر عام لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جانے لگیں۔گالم گلوچ، الزامات، بدتہذیبی، بدتمیزی اور اوئےاوئے کی ایسی ہائو کار شروع ہوئی کہ سیاسی ماحول گٹر سے بھی زیادہ بدبودار ہو گیا۔پہلے لوگ #انڈیا_کی_فلمیں فیملی میں بیٹھ کہ نہیں دیکھ سکتے تھے اور اب #سیاسی_لیڈرو کی تقریریں بندہ فیملی میں بیٹھ کے نہیں سن سکتا۔ #سیاست_سے_شرافت ایسی دور ہوئی تھی مخالف سیاسی گھرانوں کی مائوں بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں سرعام جلسے جلوسوں میں میں اچھالی جانے لگیں۔سوشل میڈیا کے آنے سے ایک نئے طوفان بدتمیزی کا آغاز ہوا۔سچ اور جھوٹ کی تفریق کئے بغیرکاپی پیسٹ کرکے جھوٹ کو منٹوں میں پھیلانے کا کام شروع ہوا۔حکومتیں عوامی مسائل کو حل کرنے کی بجائے ٹوئٹر اورسوشل میڈیا پر بیٹھ کر حکومت کرنے لگیں۔سیاسی لیڈروں کی ویڈیوز جذباتی گیتوں کے ساتھ ایڈٹ کر کے ان کو #خلیفہ_وقت بنا دیا گیا۔عوامی ذہنوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے جکڑ کر صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح بنا دیا گیا۔الغرض سیاسی فضاء کو آلودہ کرکے ذہنوں کو بھی آلودہ کر دیا گیا۔لیکن خدارا اب عوام کو معاف کرو اور سیاست کو اس کی پاکیزگی لوٹا دو تاکہ اس مٹی کی کوکھ سے حقیقی معنوں میں کوئی لیڈر ابھر سکے۔ ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔#شہزاد_فضل_سبجیکٹ_سپیشلسٹ۔ ۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں