250

ن لیگی دوست مبارکباد کے مستحق PTI کے احباب کو بھی مبارک قبول ہو

مبارک_ٹو_ن_لیگ_وPTI

نصیر ناصر۔۔۔

میاں محمد شہباز شریف طویل عرصہ کی "جدو جہد”کے بعد بالآخر "عارضی” وزیراعظم منتخب ہوچکے ہیں۔جس پر بجاطور پر ن لیگی دوست مبارکبادکے مستحق ہیں۔
اور یہاں پر PTIکے احباب کوبھی آئندہ الیکشن میں دو تہائی سے زائد سیٹیں جیتنے کی ایڈوانس مگر مشروط مبارک قبول ہو۔
مشروط اس لیےکہ بعض ناقابل اشاعت امکانات کی بنیاد پر بعض سنجیدہ فکر احباب کی رائےکےمطابق آئندہ انتخابات کا امکان دن بدن معدوم ہوتا نظرآرہاہے۔جبکہ بدقسمتی سےکپتان کامزاج بھی مروجہ پارلیمانی جمہوریت سے میل نہیں کھاتا۔اورلگتایہ بھی ہے کہ اپنے جذباتی مزاج اور غیرسنجیدہ طبیعت کے باعث ممکنہ طور پر عمران خان مستقبل کی سیاست کے منظر سے غائب ہی ہوجائیں۔
اب آتے ہیں آئندہ انتخابات میں PTIکے بطور اکثریتی جماعت انتخابات جیتنے کے امکان کی طرف تو صاحبانِ فکر و نظر اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔ کہ ملکی ادارے اگر حالیہ لیٹرگیٹ سکینڈل کو تحقیق کی چھلنی سے گذار کرحقائق تک پہنچناچاہیں۔تو لمحوں میں دودھ کادودھ اور پانی کاپانی ہوسکتاہے۔اور اپوزیشن یاحکومت کی اس حوالے سے بددیانتی سامنےلاکر سخت احتساب ممکن بنایاجاسکتاہے۔ لیکن میراذاتی گمان ہے کہ اس پرکاروائی نہیں ہوگی۔ بلکہ اس کواسی طرح ایک سیکنڈل کے طور پرباقی رکھاجائے گا۔اور مستقبل میں اس کو بہترین سیاسی ہتھیار کے طور پر پیش کرکے بھرپور فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ اور یہی وہ ہتھیار ہوگا جو مستقبل میں قائم حکومت واپوزیشن دونوں کو”راہ راست”پررکھے جانے کی راہ ہموار کرے گا۔
گوکہ ابھی یہ طے کرناذرا مشکل ہے کہ لیٹرگیٹ سیکنڈل کی بنیاد پر تحریک انصاف کودوتہائی اکثریت دلانے کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔یا اپوزیشن اتحاد کی کمزور حکومت قائم کروائی جاتی ہے۔ پکچر ابھی باقی ہے۔
مگر یہ طے ہے کہ قوم حسب دستور بغیرسوچے سمجھے پاگلوں کی طرح استعمال ہوتی رہے گی۔اور اپنےنظریات اور امیدوں سے کھلواڑ ہوتادیکھتی رہے گی۔ مگر انقلاب کی کھیتی پھر بھی شاید ویران رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں