406

نورپورتھل تاریخ کے آ ئینہ میں

تاریخ یہ بتاتی ھے کہ یہ گاؤں اٹھارویں صدی کے اوائل تک ایک بے نام سی بستی تھی۔جسے ایک صوفی بزرگ سید نور حسن غزنی اور ان کے ایک مصاحب شیخ جیون نارو راجپوت نے شرف قیام بخشا اور ایک کنواں بھی کھدوایا ۔ جس کے آ ثار اب معدوم ھو چکے ھیں ۔ اس کنویں کے قریب ھی ایک بہت خوب صورت مسجد بھی تعمیر کروائی جو ” منشیاں والی مسجد” کے نام سے آ ج بھی موجود ھے۔ رفتہ رفتہ کنویں کے آ س پاس آ بادی بڑھتی چلی گئی ۔ اور یہ بستی انھیں بزرگ کی نسبت سے نورپور کے نام سے جانی جانے لگی۔

ایک اور روایت کے مطابق نورپور کا نام 1745ء میں ملک شیر محمد ٹوانہ والی مٹھہ ٹوانہ نے رکھا تھا اور سرکاری کاغذات میں یہ ابھی تک نورپور ٹوانہ ھی لکھا جاتا ھے۔

احباب ، نورپور کا تاریخی گاؤں قیام پاکستان سے پہلے مختلف تاریخی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رھا ھے۔ اور یہاں کی پرانی عمارتوں پر کندہ کی گئی جا بجا مورتیاں اور تصاویر اس گاؤں کے قدیم ورثہ کی عکاس ھیں۔

بھائی جگتا جی کا ٹھکانہ۔۔۔۔۔۔
نورپور تھل میں ھندو اور سکھ مذھب کی بے شمار عبادت گاہیں تھیں جہاں دوردراز سے لوگ پوجا پاٹ کے لئے آ یا کرتے تھے۔
1688ء میں نورپورتھل میں ایک بڈے دھرم شالہ کا قیام عمل میں آیا جو بعد میں بھائی جگتاجی کے ٹھکانہ کے نام سے مشہور ھوا۔ تقسیم ھند کے وقت اس ٹھکانہ کا انتظام و انصرام سنت سنگھ کے ذمہ تھا ۔
انڈیا جانے کے بعد سنت سنگھ نے گونیانہ منڈی ضلع بھٹنڈہ میں اسی بھائی جگتا جی کے ٹھکانہ کی بنیاد رکھی ۔ جس کی تعمیر میں نور پور تھل سے ھندوستان گئے ھوئے ھندوؤں نے بڑھ چڑھ کر گرم جوشی کے ساتھ حصہ لیا۔

تقسیم ھند سے قبل یہاں کی آ بادی تقریباً چھ ھزار تھی۔
مکڑ ، دھریجہ دھون سٹھار گاھی ، پہوڑ، لودھرے، بگہ اعوان ، چندرام ، چھینے ، گوجر چوھان ، نارو۔ کارلو، چوکی ، چنڈی بھڈوال ، پڑیہار، سگو کلو وینس جمالی بلوچ اور سید قبیلہ کے لوگ کافی زیادہ تعداد میں آ باد تھے۔ بنیادی طور پر یہ ھنرمندوں کا گاؤں تھا ۔ درکھان ،لوھار موچی دھوبی چوڑوھے اور جولاھے یا پاولی بہت بڑی تعداد میں رھائش پزیر تھے ۔ صرف ترکھان اور لوھار برادری کے 1400 ووٹ نورپور تھل میں اندراج تھے۔
ذیلدار اور نمبر دار سکھ مذھب سے تھے۔ ذیلدار کا نام جوار سنگھ تھا ۔ جو نورپور کی پنچایت کا بھی سرپنچ تھا اور اسکے بولے بنا تھانہ نورپور کسی کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتا تھا۔
سب سے زیادہ امیر فیملی سترامیہ فیملی تھی وہ ھندو راجپوت تھے اور چوھدری کہلاتے تھے ۔ ان گنت زرعی اراضی کے مالک تھے اور بہت سی دولت جمع کی ھوئی تھی۔ انھوں نے تربیت یافتہ گھوڑوں اور اونٹوں کا اصطبل بھی بنایا ھوا تھا۔ اس فیملی کا ایک فرد کانگریسی ھندو رھنما نہرو کا پرسنل سیکرٹری بھی تھا۔

مسلم اقوام میں پہوڑ، راجے، گجر، بگہ اعوان اور سید زیادہ تھے۔

برج لال دھریجہ
ھندوستان میں بے شمار کتابوں کے مصنف برج لال دھاریجہ اسی گاؤں میں 1929ء میں پیدا ھوئے۔ انکے والد کا نام دھاری لال دھریجہ اور انکی والدہ کا نام بوندی بائی تھا۔ تقسیم ھند سے قبل انکے والد کی نور پور تھل میں مٹھائی کی دکان تھی۔ جسے یہ خاندان مل کر چلاتا رھا ۔ ابتدائی تعلیم نورپور میں حاصل کرنے کے بعد برج لال اعلیٰ تعلیم کے لیے لاھور چلے گئے ۔ ان کا خاندان نورپور تھل میں ھیں رھائش پزیر رھا۔ تقسیم ھند کے ھندو مسلم فسادات میں برج لال دھاریجہ کے خاندان نے نورپور سے باھر موجود گوردوارہ میں پناہ لی جس میں اس وقت قرب وجوار سے 5000 ھندو سکھ لوگوں نے پناہ لی ۔
اس گوردوارہ سے ھی فائرنگ ھوئی جس کی زد میں آ کر لوھار فیملی کا ایک مسلمان شہید ھوا۔
یہ گوردوارہ بعد ازاں پرائمری اسکول میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔ برج لال کا خاندان امبالہ میں جا بسا۔ برج لال نے اپنی گریجویشن ھوشیار پور سے مکمل کی۔ اور اسکے بعد دھلی میں گورنمنٹ سروس کے دوران بے شمار کتابیں لکھیں جو آ ج بھی پورے ھندوستان کے طول وعرض میں کالجز میں پڑھائی جاتی ہیں۔

مشہور شاعر امر سنگھ ملک نورپوری

اردو اور پنجابی ،سرائیکی کے مشہور شاعر امر سنگھ بھی 1906ء میں نور پور تھل میں پیدا ھوئے۔ انکے والد سیوا سنگھ اس وقت تحصیلدار تھے۔ ابتدائی تعلیم نورپور تھل میں حاصل کرنے کے بعد امر سنگھ نے اعلیٰ تعلیم لاھور سے حاصل کی ۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد شاہ پور میں شعبہء درس و تدریس سے وابستہ ھو گئے۔ اور شاعری بھی لکھنا شروع کی جو بعد ازاں ھندوستان میں ایک صاحب دیوان شاعر دانشور مانے گئے۔

مسلم شعرا ء میں قابل ذکر نام ملک حاجی احمد سٹھار کا ملتا ھے جنھوں نے اوائل عمری میں ھی اپنا سرائیکی شعری مجموعہ ” فگار دا بستہ” اور منظوم سرائیکی قصہ ” سسی پنوں ” مکمل کئے ۔
1854ء تک نورپور تھل کا قصبہ انتظامی طور پر ضلع لیہ کے زیر انتظام رھا ۔ اور لیہ کے لعل عیسن کروڑ کی گدی نے اس علاقہ میں اسلام پھیلانے میں اھم کردار ادا کیا ۔
1865ء میں یہ قصبہ ضلع شاہ پور کے زیر انتظام رھا ۔ بعد ازاں 1982ء تک ضلع سرگودھا کے زیر انتظام رھا اور اس کے بعد اب تک ضلع خوشاب کے ماتحت ھے۔
1866ء میں اس وقت کے انگریز ڈپٹی کمشنر کیپٹن ڈیوس نے تھانہ نورپور تھل کی بنیاد رکھی ۔ اور 1920 ء میں گورنمنٹ ھائی سکول نورپور تھل کی بنیاد رکھی گئی ۔

دوستو! ساڑھے تین سو ایکڑ رقبہ پر محیط یہ گاؤں تقریباً 50000 نفوس کی جائے مسکن ھے۔ جن کا عمومی پیشہ سپاہ گری اور کاشت کاری ھے۔ 1976 ء میں ٹاؤن کمیٹی کا درجہ پایا ۔1982ء میں تحصیل کا درجہ ملا۔ 2001 ء میں میونسپل کمیٹی کا مقام ملا۔

صوبہ پنجاب کی سب سے پسماندہ تحصیل ھیڈ کوارٹر نورپور تھل میں شرح خواندگی تقریباً 35 ٪ ھے۔ تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے لڑکوں اور لڑکیوں کے ڈگری کالجز ، کامرس کالج، سپیشل بچوں کا اسکول اور متعدد نجی تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں ۔
اس قدیم آ بادی کا شہر خموشاں 40 ایکڑ پر محیط ھے۔
جوھر آ باد سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع یہ گاؤں پاکستان سب سے زیادہ چنے کی کاشت والا گاؤں ھے۔ اور گزشتہ کئی سالوں سے درجہء حرارت کے اعتبار سے ملک کا گرم ترین علاقہ مانا جاتا ھے۔

قدیم روایات کے حامل اس گاؤں کی بنی ھوئی لکڑی کی کنگھی جس میں چھوٹا سا بور کر کے سرسوں کا تیل بھرا جا سکتا تھا۔ اور دندانوں کے بیچ میں موجود خالی جگہوں پر کئے گئے چھوٹے سوراخوں کے ذریعے کنگھی کرتے ھوئے تیل خود بخود بالوں میں لگ جایا کرتا تھا۔ یہ کنگھی آ جکل نہیں ملتی جو تھاری والے ترکھان بنایا کرتے تھے ۔ تلے والی کھیڑی جتی اور اونی شال ( ڈلا) کی وجہ سے بھی یہ گاؤں مشہور تھا۔ کرم علی ولد غوث علی قصائی کا مشہور تندوری گوشت اور ھر جمعرات کو دستیاب اونٹ کا گوشت لذت کام و دہن کا شغف رکھنے والے افراد کے لئے باعث کشش تھا اور ھے۔
گاؤں میں بہت سے صوفی بزرگوں کے مزارات واقع ھیں جن میں میاں مانجھا کا دربار اور بابا سیدن شاہ کا دربار مشہور ھے اور یہاں پر ھر سال ساون کی یکم تاریخ کو وسط جولائی میں انکے نام کا روایتی میلہ لگتا ھے جو تین دن تک جاری رھتا ھے ۔ جو آ س پاس کی 22 جھوکوں کے علاوہ دوردراز کے علاقوں کے لئے بھی تفریح اور تجارت کا ذریعہ ھے۔ جس میں روایتی کھیل نیزہ بازی ، کبڈی اور پڑ کوڈی اور بہت سے رویتی پروگرامز دلچسپی کا باعث ھوتے ھیں ۔
طبیہ کالج دلی سے فارغ التحصیل اور بین الاقوامی شہرت کے حامل 128 سالہ یونانی حکیم ملک نذد محمد گاھی بھی نورپور تھل کے ھی رھائشی ھیں ۔
مکہ مکرمہ میں واقع طباش ھوٹل کے مالک سیٹھ عبدالرحمان کا تعلق بھی نورپور تھل کی قصائی برادری سے ھے۔
پڑ کوڈی لمبی کھیڈ کے مشہور کھلاڑی امیر لوھار مرحوم بھی یہیں کے باسی تھے ۔

نورپور تھل سے ملحقہ 22 مشہور جھوکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ( دیہات)

1. بلند
2. پیلو وینس
3. جمالی بلوچاں
4. عینوں تھل
5. ڈھمک اعواناں
6. ٹاھلہ
7. کھاٹواں
8. سدھا
9. بمبول
10. جھرکل
11. جاڑا
12. نواں سگو
13. کاتی مار
14. نکڑو شہید
15. میکن
16. شاہ والا جنوبی
17. راھداری
18. پلوآں
19. شاہ حسین
20. بوڑانہ والہ
21. کپاھی
22. ستھ شھانی

تحریرو تحقیق ۔
امید راؤ امید مڈاڈھ ایڈمن رانگھڑ راجپوت بیٹھک پاکستان
38 ڈی سن سٹی ھا ؤ سنگ اسکیم فیروز پور روڈ لاھور
بشکریہ
شہزاد اسلم اولڈ خوشاب چینل
امتیاز حسین امتیاز ایوارڈ یافتہ ماھر تاریخ دان ۔خوشاب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں