334

نظام قلب کو فرحت بخشتا ہے بلڈپریشر نارمل رکھتا ہے خون کے بہاؤ کو نارمل رکھتا ہے جس سے بلڈ پریشر کنٹرول رہتا ہے دل کے مریضوں کے لئے مفید ہے

*پپیتا کے طبی فوائد*
پپیتا (Papaya) سبز، زرد اور سرخ رنگ کا پھل ہے۔ اس کا مزاج سرد و تَر ہوتا ہے، کچے پپیتےکا ذائقہ تلخ اور پک جانے کے بعد شیریں ہوتا ہے۔

*پپیتے کے فائدے٭*
پپیتا خون کی نالیوں کو نرم، لچک دار اور کشادہ رکھتا ہے
٭ خون میں کولیسٹرول بڑھنے نہیں دیتا کنٹرول کرتا ہے، یہ نظام قلب کو فرحت بخشتا ہے۔

٭ بلڈپریشر نارمل رکھتا ہے
پپیتا خون کے بہاؤ کو نارمل رکھتا ہے جس سے بلڈ پریشر کنٹرول رہتا ہے۔ پپیتا دل کے مریضوں کے لئے مفید ہے۔
پپیتا جسم میں خون کے لوتھڑے بننے کے عمل کو روکتا ہے۔ اس کے علاوہ جسم میں غیر ضروری خون کو جمنے سے روکتا ہے۔ پپیتا جسم کے اندرونی اور بیرونی زخموں کے لئے شفایابی کا کام کرتا ہے۔
٭ دل کو فائدہ و تقویت دیتا ہے

٭ خاص طور پر تَپ دِق کے مریضوں کیلئے بہت مفید ہے

٭ یہ نظام انہظام کو درست رکھتا ہے۔ پپیتا کھانے سے بدہضمی اور سینے کی جلن سے نجات مل جاتی ہے۔ یہ ہاضم ہوتا ہے اور بھوک بھی لگاتا ہے
٭ پپیتا کاسرِ ریاح (یعنی ریاح کو توڑنے والا یا خارج کرنے والا) اور پیشاب لانے والا ہوتا ہے

٭ گردے کی پتھری کو توڑتا ہے

٭ پپیتا پیٹ کی بیماریوں اور السر سے محفوظ رکھتا ہے۔ پپیتا آنتوں اور چھاتی کے کینسر کے علاج میں مدد گار ہے۔ پیٹ کے کیڑوں کو ہلاک کرتا ہے

٭ سخت گوشت کو گلانے کیلئے بھی کچا پپیتا استعمال کیا جاتا ہے

٭ معدہ کی سوزِش، منہ سے خون آنے اور گرمی کی وجہ سے ہونے والی بواسیر میں اس کا استعمال فائدہ مند ہے

٭ جگر اور انتڑیوں کیلئے بے حد مفید ہے۔
٭ پپیتا کے بیج جگر (Cirrhosis) میں فائدہ مند ہے۔ پانچ سے چھ بیج گرینڈ کر کے لیموں کے جوس میں ملا کر تیس دن تک لئے جا سکتے ہیں۔ پپیتا گردوں کے فیل ہونے اور گردوں کی دوسری بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پپیتا کے بیج کینسر کے خلیات اور ٹیومر کو بڑھنے سے روکتے ہیں۔ پپیتا پھیپھڑوں کے کینسر اور پروسٹیٹ کینسر سے بچاتا ہے۔

٭ اس کا باقاعدہ استعمال قَبْض کو ٹھیک کرتا ہے
٭ پپیتا کھیل کے دوران لگنے والی چوٹ اور الرجی سے محفوظ کرتا ہے اور درد کم کر نے میں مدد کرتا ہے۔ بدن پر آنے والی سُوجَن کو دورکرتا ہے

٭ چہرے کی چھائیوں اور داغ دھبّوں پر اس کا پیسٹ لگانے سے چہرے کے داغ دَھبے ختم ہوجاتے ہیں، چہرہ ملائم اور اس کے نکھار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ یہ چہرے کے دانوں کو ختم اور جلد کو چمکدار بناتا ہے ۔

پپیتا جلد کو نرم کرتا ہے اور جھائیوں اور داغ دھبوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پپیتا وقت سے پہلے بڑھاپے کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ پپیتا کھانے اور چہرے پر لگانے سے جلد کا رنگ نکھر جاتا ہے اور جلد چمکدار ہو جاتی ہے۔ پپیتا جلے ہوئے حصوں پر لگانے سے زخم جلد بھر جاتے ہیں۔ پپیتا غیر ضروری بالوں کو ختم کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔آدھی چمچ ہلدی اور ایک چمچ پپیتا کے گودے کو ملا کر متاثرہ جگہ پر لگائیں اور پندرہ منٹ بعد منہ دھو لیں ۔ یہ عمل ہفتہ میں صرف ایک بار کریں

٭ شوگر کے مریضوں کے لئے کم مقدار میں اس کا استعمال مفید ہے، معالج کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں کیونکہ یہ خون میں شوگر کو فوری کم کرتا ہے۔
٭ خالی پیٹ اس کا استعمال موٹاپے کو ختم کرتا ہے۔

پپیتا بخار اور ڈینگی بخار کا بہترین علاج ہے۔

احتیاط ایک وقت میں صرف 50 گرام پپیتا ہی استعمال کیجئے نیز جو مریض اِسْہال (دست) کی بیماری میں مبتلا ہوں انہیں پپیتا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔

▪️ہفتے میں صرف ایک مرتبہ پپیتا کھانے کے فوائد جانیے
پپیتا ایک ایسا پھل ہے جسے استعمال کرنے کے بے شمار فوائد ہیں اور اگر اس فائدے مند پھل کے ذائقے کی بات کی جائے تو یہ بھی بہترین ہوتا ہے۔

♦️ *پپیتے کے بیج، درجنوں بیماریوں کا علاج*
*پپیتے کی بیجوں کا استعمال کیسا ہے؟*
جہاں پپیتا خوراک میں شامل کرنے کے بے شمار فوائد ہیں تو وہیں اس میں موجود بیجوں کا استعمال کرکے بھی بے شمار فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان میں پپیتا عام طور پر پیٹ کے مختلف امراض خصوصاً قبض کا علاج کرنے کےلیے کھایا جاتا ہے اور اس کے بیج پھینک دیئے جاتے ہیں لیکن غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پپیتے کے بیج بہت سی بیماریوں کے علاج میں ہمارے قدرتی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں.
حالیہ برسوں کے دوران کی گئی مختلف طبّی تحقیقات سے پپیتے کے بیجوں کے کئی فوائد سامنے آ چکے ہیں جن کا تعلق جگر، آنتوں، معدے اور گردوں وغیرہ تک سے ہے.

البتہ پپیتے کے بیجوں کا ذائقہ کیونکہ تلخ ہوتا ہے اس لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ انہیں خشک کرنے کے بعد پیس لیا جائے اور شہد کی معمولی سی مقدار میں ملا کر روزانہ تھوڑا تھوڑا استعمال کیا جاتا رہے تو اس سے کئی فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں.

جگر کو زہریلے اور فاسد مادّوں سے پاک کرنے کے لیے پپیتے کے بیجوں کا استعمال روایتی چینی طب میں ہزاروں سال سے کیا جا رہا ہے اور اب یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ مصنوعی کیمیائی مادّوں سے جگر کو محفوظ کرنے میں یہ بیج بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں. جگر کا سکڑ جانا جسے طبی اصطلاح میں ’’سرہوسس‘‘ کہا جاتا ہے، ایک خطرناک کیفیت ہے جس کا نتیجہ موت کی صورت میں نکلتا ہے لیکن اگر اس کیفیت میں پپیتے کے بیج استعمال کر لیے جائیں تو جگر کی کارکردگی بحال ہوتی ہے اور یہ اپنی معمول کی جسامت پر واپس آجاتا ہے. البتہ اگر آپ کی طبیعت گوارا کرے تو آپ پپیتے کے ساتھ اس کے بیج بھی کھا سکتے ہیں.
پپیتے کے گودے کی طرح اس کے بیج بھی غذائی نالی سے لے کر چھوٹی آنت تک، نظامِ ہاضمہ کے ہر حصے کے لیے مفید ہیں

جبکہ یہ آنتوں میں موجود امیبا اور طفیلیوں کو نہ صرف ختم کرتے ہیں بلکہ انہیں دوبارہ پیدا ہونے سے بھی روکتے ہیں. ایک اور طبّی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ پپیتے کے بیج السر سے بھی بچاتے ہیں. ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ پپیتے کے بیجوں میں پاپائین اور کائیموپاپائین نامی دو قدرتی خامرے (اینزائمز) پائے جاتے ہیں جو جلن کم کرنے اور صحت یابی کا عمل بہتر بنانے کی قدرتی صلاحیت سے مالامال ہیں اور ان ہی کی وجہ سے دمے اور گٹھیا کی مختلف اقسام میں پپیتے کے بیجوں سے فائدہ ہوتا ہے. لاطینی امریکا کے روایتی طریقہ علاج میں پپیتے کے بیجوں کا پیسٹ بنا کر جسم کے جلے ہوئے حصوں اور زخموں کا علاج کرنے کے لیے استعمال کرایا جاتا ہے.

پپیتے کی بیج گردوں کی حفاظت، جراثیم کے خلاف مزاحمت کرنے کے ساتھ ساتھ سوزش اور سوجن میں بھی کمی کرتی ہے۔ پپیتے کے بیج ہمارے گردوں کو کھانے پینے کی چیزوں میں شامل اجزاء کے زہریلے اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں اور یوں گردوں کی صحت بہتر رہتی ہے.

بلڈ پریشر معمول کے مطابق رکھنے میں بھی پپیتے کے بیجوں کا استعمال بہت مفید پایا گیا ہے جبکہ افریقا میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان میں ’’فلیوونوئیڈز‘‘ نامی مادّے بھی پائے جاتے ہیں جن کی بدولت ہمارے جسم کو کینسر سے بچنے میں بھی مدد ملتی ہے.
امید ہے کہ یہ تحریر پڑھنے کے بعد آپ پپیتے کے بیجوں کو کچرے میں نہیں پھینکیں گے بلکہ انہیں بھی سنبھال کر استعمال میں لائیں گے.

*پپیتا پھل کا جوس*
روازنہ اس فروٹ کا جوس پی لیں یہ اس قدر طاقتور ہے کہ صرف ایک ہفتے میں جگر کا تمام گند صاف کر دئے گا، آپ کینسر ہیپاٹائٹس کے مرض سے بھی ہمیشہ محفوط رہیں گے اگر خدانخواستہ کسی کو ہیپاٹائٹس یا کینسر کا مرض لاحق ہو یہ بہت تکلیف وہ بیماریاں ہوتی ہیں اللہ تعالی ٰنے اس دنیا میں ایسے مفید اجزا پیدا کیے ہیں جن کو استعمال میں لاتے ہوئے ہم ان خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں.

جگر کی بہترین صحت کے لیے انتہائی طاقتور ڈرنک اجزا پپتیے کے پتے ایک کپ
پانی ایک گلاس۔
گرائنڈر میں ڈال کر گرائینڈ کریں۔

*طریقہ استعمال ..*
روزانہ پپیتے کے پتے لے کر ان کو ایک گلاس پانی میں ملا کر گرائنڈ کرلیں اور دن میں کسی بھی ٹائم پی لیں

پپیتے کے فوائد کے بارے میں تو سب جانتے ہیں، پپیتے کے پتوں میں بھی خصوصی اجرائ پائے جاتے ہیں پپیتے کے پتوں میں ایسے کمپاونڈ پانے جاتے ہیں جن کی وجہ سے جسم کو اینٹی آکیڈننس ملتے ہیں جسم کو مدافعیانی نظام مضبوط ہوتا ہے اس میں پاپین پاتا جاتا ہے۔
جو جسم سے گیس اور تیزابیت کا خاتمہ کرتا ہے. جاری ہے اور عزام انہضام مضبوط بناتا ہے۔
اگر آپ پیپتے کے پتوں کا جوس کم سے کم ایک ہفتے تک پیتے ہیں تو آپکو شاندار فوائد حاصل ہوں گے۔

ڈینگی بخار کے لیے مفید ہے۔
یہ پینے سے خون کے پلیٹ لیٹس میں اضافہ ہوگا اور خون سرخ اور سفید خلیوں کے ردمیان توازن پیدا ہوگا اس سے جسم صحت مند رہے گا۔
ان پتوں کا جوس سے خون میں شوگر کا لیول کم ہوگا اور شوگر کے مرض کا خاتمہ ہوگا، اس کے علاوہ جگر کی چربی اور گردوں کی بیماری بھی ختم ہوتی ہے پپیتے کے پتوں کے جوس یہ خاصیت موجود ہے. جاری ہے کہ اس کی وجہ سے جگر صاف ہوتا ہے اور انسان یرقان اور جگر کے کینسر سے محفوط رہتا ہے

پپیتے کے پتوں کا جوس پینے کے بعد بارہ گھنٹوں میں خون میں پلیٹلیٹ کی تعداد چھ ہزار سے دو لاکھ تک بڑھ جاتی ہے، ڈینگی وائرس بخار کا قدرتی علاج ہے ۔

پیپتا کے پتوں کا جوس آدھا کپ مریض کو پلائیں اور اس کے فوراً بعد سیب کے خالص جوس میں آدھا لیموں نچوڑ کر پلائیں۔ تین دن صبح اور شام استعمال کریں۔

ڈینگی بخار کا شافی علاج ان شاءاللہ تعالیٰ

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں