260

نایاب مچھلی کاوزن 48 کلو 500 گرام ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جیوانی کے سمندر سے پکڑی گئی نایاب مچھلی ایک کروڑ 35 لاکھ 80 ہزار روپے میں نیلام ہوئی ہے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن)بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل جیوانی کے سمندر سے نایاب مچھلی پکڑی گئی۔نجی ٹی وی جیو کے مطابق مقامی زبان میں کِر اور سووا کے نام سےمشہور نایاب مچھلی کاوزن 48 کلو 500 گرام ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جیوانی کے سمندر سے پکڑی گئی نایاب مچھلی ایک کروڑ 35 لاکھ 80 ہزار روپے میں نیلام ہوئی ہے
۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ جیوانی سے پکڑی گئی نایاب مچھلی 2 لاکھ 80 ہزار روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوئی اور نیلامی میں نایاب مچھلی کراچی سے مچھلی منڈی کے بیوپاریوں نے خریدی۔سووا مچھلی کی قیمت اصل میں اس کے پیٹ میں پائے جانے والے خاص مادے کی وجہ سے ہے اور مچھلی کے پیٹ میں مادہ یا پوٹا مخصوص قسم کی ادویات کیلئے استعمال ہوتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال مئی میں پیشکان سے تعلق رکھنے والے ایک مچھیرے نے جیوانی کے ساحل سے 48 کلو گرام وزنی مچھلی پکڑی جسے 72 لاکھ روپے کی خطیر رقم کے عوض فروخت کیا گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ساجد حاجی ابا بکر کا کہنا تھا کہ قیمتی کروکر مچھلی پکڑنے کا سہرا کشتی کے مالک کے سر جاتا ہے، اس وقت کشتی پیشکان کے وحید بلوچ چلا رہے تھے۔گوادر میں فشریز کےڈپٹی ڈائریکٹر احمد ندیم نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے کبھی ایسی مچھلی نہیں دیکھی جس کی اتنی زیادہ قیمت ہو۔حاجی ابابکر کا کہنا تھا کہ نیلامی کے دوران ایک موقع پر مچھلی کی قیمت 86 لاکھ 40 ہزار تک پہنچ گئی تھی لیکن ہماری روایات میں رعایت کی اجازت ہے اس لیے 72 لاکھ روپے میں بات طے ہوئی۔گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات اور ماہر سمندری حیاتیات عبدالرحیم بلوچ کا کہنا تھا کہ یورپ اور چین میں بڑی کروکر مچھلی کی طلب بہت زیادہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں