323

نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بارش کے پانی میں انسان کے بنائے ’فور ایور کیمیکلز‘ پائے گئے ہیں جو کینسر جیسی مہلک بیماری کی وجہ بن سکتے ہیں

نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بارش کے پانی میں انسان کے بنائے ’فور ایور کیمیکلز‘ پائے گئے ہیں جو کینسر جیسی مہلک بیماری کی وجہ بن سکتے ہیں۔

روزمرّہ انسانی ضروریات کی متعدد چیزوں میں پرفلوروالکائل اور پولی فلورو الکائل مرکبات کا استعمال ہوتا ہے، جن میں آگ بجھانے والا فوم، فرائنگ پین پر لگی نان اسٹک تہہ جیسی اشیاء شامل ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مرکبات صنعتوں سے ہونے والے اخراج سے یعنی آلودہ پانی اور بخارات کی صورت میں ماحول کا حصّہ بنتے ہیں۔

ان مرکبات کے اخراج اور ماحول میں موجودگی سے متعلق سوئیڈن کی اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور سوئٹزرلینڈ کی ای ٹی ایچ زیوریخ کے محققین نے لیبارٹری اور فیلڈ میں گزشتہ برس ایک تحقیق کی۔

اس تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مرکبات زمین کے اینٹارکٹیکا اور تبت جیسے دور دراز علاقوں میں موجود بارش کے پانی اور برف کے اندر پائے جا سکتے ہیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ کیمیکلز انسانی صحت کو لاحق متعدد مسائل میں مبتلا رکھتے ہیں۔

ان مسائل میں کینسر، مدافعتی نظام کمزور ہونا، موٹاپا اور بانجھ پن جیسے مسائل شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں