312

مولانا عبدالستار خاں نیازی یکم اکتوبر1915ء کو عیسیٰ خیل کی تحصیل کے ایک گاؤں "اٹک پٹالہ "میں پیدا ہوئے ۔ ان کا شجرہ، شیرشاہ سوری کی افواج کے کمانڈرانچیف عیسیٰ خاں نیازی سے جا ملتا ہے

آج معروف سیاستدان اور عالم دین مولانا عبدالستار خان نیازی کی برسی ہے
مولانا عبدالستار خاں نیازی یکم اکتوبر1915ء کو عیسیٰ خیل کی تحصیل کے ایک گاؤں "اٹک پٹالہ "میں پیدا ہوئے ۔ ان کا شجرہ، شیرشاہ سوری کی افواج کے کمانڈرانچیف عیسیٰ خاں نیازی سے جا ملتا ہے ۔ان کے والدین بچپن ہی میں فوت ہوگئے ۔ مولانا نیازی کی تربیت و پرورش ان کے نانا صوفی محمد خاں اور تایا محمد ابراہیم خان نے کی ۔ میٹرک تک تعلیم عیسیٰ خیل سے حاصل کی اور وظیفہ لیا ۔ میٹرک کے بعد آپ نے لاہور کا رخ کیا اور یہا ں اشاعت اسلام کالج میں داخلہ لے لیا ۔ یہ کالج علامہ اقبال کا "برین چائلڈ”تھا جس کا مقصد ایسے مبلغین اسلام کی تیاری تھا جو جدید تقاضوں سے آگاہ ہوں اور نئی نسل سے جدید علم الکلام میں بات کرسکیں۔ قرآن،حدیث، سیرت النبیؐ، فقہ، تاریخ اسلام اور مختلف مذاہب کے تقابلی مطالعے پر مبنی اس کا نصاب بھی علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال کا مرتب کردہ تھا۔ سیاسیا ت ، عربی اور فارسی میں تین ماسٹر ڈگریا ں حاصل کرنے والے مولانا نیازی اشاعت اسلام کالج سے علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال کے دستخطوں کی حامل "ماہر تبلیغ ” کی اس سند پر زیادہ فخر کیا کرتے تھے ۔ جو 1935ء میں انہیں امتحان میں کامیابی حاصل کرنے پر حکیم الامت علامہ محمداقبال نے اپنے ہاتھوں سے عطا کی تھی ۔ بعد ازاں 1936ء میں مولانا نیازی نے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا ، خوش قسمتی سے وہاں ان کی ملاقات حمید نظامی ، میاں محمد شفیع (م ش) اور ابراہیم علی چشتی جیسے ذہین طلبہ سے ہوئی۔ یہ تینوں طلبہ ملی سوچ کے حامل انسان تھے۔ انہی طلبہ نے مسلم سٹوڈ نٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی ۔ 1938ء میں مولانا نیازی مسلم سٹوڈنٹس کے تیسرے صدر منتخب ہوئے ۔اسی سال مولانا نیازی نے ایم اے عربی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ 1939ء میں قائداعظم محمد علی جناح سے دہلی میں ملاقات کرکے” خلافت پاکستان "کی تجویز پیش کی، جس پر قائداعظم نے فرمایا "تمہاری سکیم بہت گرماگرم اور پرجوش ہے۔” تو مولانا نیازی نے برجستہ جواب دیا "کیونکہ یہ سکیم ایک پرجوش دل سے نکلی ہے۔” ایک موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح نے مولانا نیازی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا "نیازی جیسے نوجوان میرے ساتھ ہیں تو پاکستان کے قیام کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔” 1946ء کے عام انتخابات میں قائداعظم نے مولانا نیازی کو مسلم لیگ کا ٹکٹ دیا ۔ مولانا نیازی بھاری اکثریت سے جیتے ۔1953ء میں تحریک ختم نبوت چلی ۔ تو مولانا نیازی کو گرفتار کرلیا گیا۔ فوجی حکومت نے بغاوت اور قتل کیس میں سزائے موت سنا دی ۔ مولانا نیازی کو موت کی سزا کے فیصلے پر دستخط کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے کرنل کو للکار کرکہا جب میں پھانسی کے پھندے کو چوم کر گلے میں ڈالوں گا تو یہ میرے دستخط ہی تصور ہونگے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران جب فائل فوجی عدالت کے سامنے پیش کی گئی تو فو جی افسر نے کہا "آپ 1947ء سے پہلے بھی خطرناک ایجی ٹیٹر تھے ۔ مولانا نیازی نے جواب دیا اگر ہم ایجی ٹیٹر کا جرم انگریزوں کے خلاف نہ کرتے تو آج تم اس کرسی پر نہ بیٹھے ہوتے۔ اس کے بعد مولانا نیازی کی سزائے موت کو عمرقید میں تبدیل کردیا گیا۔”بعدا زاں مزید تخفیف کے بعد سزا صرف تین سال رہ گئی ۔ایوب خان کے مارشل لاء دور میں بھی مولانا نیازی کا جیل میں آنا جانا لگا رہا۔ پھر جب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح، ایوب خاں کے خلاف صدارتی الیکشن کے میدان میں اتریں تو مولانا نیازی ان کے ہراول دستے میں شامل تھے ۔ میانوالی میں مادر ملت کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نیازی نے کہا ہم اس شخص (گورنر کالا باغ ) کو جوتے کی نوک پر بھی نہیں رکھتے ۔ نوازشریف کے دور اقتدار میں بھی حلیف ہونے کے باوجود آپ نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیاتھا کہ اگر ملک سے سودی نظام معیشت کا خاتمہ نہ کیا تو میرا ڈنڈا تم پر لہرائے گا۔آپ نے اتحا د بین المسلمین کے لیے اپنے دور وزارت میں جو سفارشات مرتب کیں وہ آج تک تمام مکاتب فکر میں مقبولیت کا درجہ رکھتی ہیں ۔آپ دو مرتبہ قومی اسمبلی اور ایک مرتبہ سینٹ کے رکن بھی منتخب ہوئے ۔ عمر کا بڑا کا حصہ جیل میں گزارا۔ تحریک ختم نبوتؐ کے دوران آٹھ دن اور سات راتیں پھانسی کی کوٹھڑی میں گزاریں ۔ مولانا نیازی نے 86سال عمر پائی ۔ نصف صدی سے زائد عرصہ تک سیاست میں سرگرم رہے ۔ کوئی جائیداد، مکان، پلاٹ یا بینک بیلنس نہیں تھا ۔ 2 مئی 2001ء بروز بدھ نماز فجر ادا کرنے کے فوراً بعد حرکت قلب بند ہونے سے انتقال فرما گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مرقد پر رحمتیں نازل فرمائے ۔
بشکریہ: اسلم لودھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں