306

قوم کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ حمایت کسی اور کی کرتے ہیں،نعرے کسی اور کا لگاتے ہیں

ہماری #جذباتی_اور_دلکش_نعروں سے متاثر ہونے والی قوم کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم حمایت کسی اور کی کرتے ہیں،نعرے کسی اور کے لگاتے ہیں اور ووٹ مقامی مجبوریوں کی وجہ سے کسی اور کو دیتے ہیں۔مثلا اپنے مذہبی لیڈر کے پاؤں دھو دھو کر پینں گے، احتراما اس کی طرف پیٹھ تک نہیں کریں گے،اس کے لئے جان تک دینے کو تیار ہوں گے مگر الیکشن میں اپنی مقامی سیاست کو ترجیح دے کر اپنے محبوب لیڈر کو ووٹ نہیں دیں گے ۔اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے ہی نظریات کو مقامی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔اب اسی تناظر میں اگر عمران خان کے حالیہ جلسوں کو دیکھا جائے تو تعداد اور جوش کے حوالے سے تو بلا شبہ انتہائی کامیاب اور شاندار جلسے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔”امریکی غلامی نامنظور” جیسا شاندار بیانیہ اس وقت پوری قوم میں سرایت کرنے میں کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں( یہ الگ بات ہے کہ دوران اقتدار وہ اپنے اس بیانیہ کی کئی موقعوں پر نفی کرتے نظر آئے)۔بہرحال اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ عمران خان اس وقت اپنی مقبولیت کی انتہاہ پر ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی پی ٹی آئی کا گراف دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں بہت بلند ہے ۔خان صاحب اپنی جارحانہ تقاریر اور امریکی بیانیے کی وجہ سے عمومی رائے بھی اپنے حق میں کرنے میں کامیاب نظر آرہے ہیں مگر بات وہی ہے کہ ہم جلسوں میں جائیں گے جھنڈے اٹھائیں گے نعرے لگائیں گے اور سوشل میڈیا پر بھی بہت ہی ایکٹیو ہوں گے مگر الیکشن میں ہمارا ووٹ نالی گلی سڑک اور برادری ازم کی وجہ سے اپنے ہی نظریات کے خلاف جائے گا۔اب اگر وہی #نعرہ_کسی_اور_کا_ووٹ_کسی_اور_کا "والی صورت حال رہی ہے تو پی ٹی آئی زیادہ کامیاب ہوتی نظر نہیں آئے گی اگر اس بار ٹرینڈ چینج ہوگیا اور "#جس_کا_نعرہ_اسی_کا_ووٹ والی صورتحال ہوگئی تو آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی ایک بڑی طاقت کے روپ میں ابھرے گی ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔#شہزاد_فضل۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں