226

عزیز میاں قوال بارعب آواز اور شاندار کلام کے باعث اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں

پاکستان میں قوالی کو نئی جہت دینے والے عزیز میاں قوال بارعب آواز اور شاندار کلام کے باعث اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ ان کا قلندری جنون سننے والوں پر وجد طاری کر دیتا ۔
ان کی تاریخ پیدائش 17 اپریل 1942 اور تاریخ وفات 6 دسمبر 2000 ہے۔ اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے، آمین۔
انھوں نے 10 برس کی عمر میں قوالی سیکھنا شروع کی اور 16 سال کی عمر تک قوالی کی تربیت حاصل کرتے رہے۔ عزیزمیاں نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو، فارسی اور عربی میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ آپ فلسفے اور صوفی ازم کے شیدائی تھے۔ ان کا اصل نام عبدالعزیز تھا، اپنے تکیہ کلام "میاں” کی نسبت "میاں” نام کا مستقل حصہ بن گیا۔
’اللہ ہی جانے کون بشر ہے‘، ’یانبی یانبی‘ تیری صورت، اور ‘میں شرابی شرابی‘ جیسی قوالیوں نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔ آپ کو 1989ء میں حسنِ کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ملک زوالفقار علی جھمٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں