395

عزت، آبرو، وقار اور شان و شوکت کی علامت "پگڑی” ہمارا قیمتی ثقافتی اثاثہ ہے۔ معدومیت کا شکار دستار اپنے شاندار ماضی کی بدولت آج بھی احترام کی علامت سمجھی جاتی ہے

*•- پگ وٹی turban-exchange -•*

یہ تیرا تاج نہیں ہے ہماری پگڑی ہے
یہ سر کے ساتھ ہی اترے گی سر کا حصہ ہے
(خوشبیر سنگھ شاد)

عزت، آبرو، وقار اور شان و شوکت کی علامت "پگڑی” ہمارا قیمتی ثقافتی اثاثہ ہے۔ معدومیت کا شکار دستار اپنے شاندار ماضی کی بدولت آج بھی احترام کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کچھ عرصہ پہلے "کلچر ڈے” کے موقع پر "پگڑی” کی revival کیلئے دیکھی جانے والی سنجیدہ کاوش خاصی حوصلہ افزاء ھے ۔۔۔۔

یوں تو پگڑی سے ہمارے شاندار ماضی کے کئی حوالے جڑے ہیں تاہم "پگ وٹی” (turban-exchange) اپنی سحر انگیزی کی وجہ سے آج بھی ناقابل فراموش ھے۔ "پگ وٹی” نہ تو کوئی بچوں کا کھیل تھا اور نہ ہی راہ چلتے کسی کا دل رکھنے کیلئے پگڑیوں کے تبادلے کا شغل ۔۔۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ تھا، بلکہ انتہائی سنجیدہ۔۔۔
"کسی جان سے پیارے دوست کو اپنی پگڑی بطور دوستی کی علامت تحفے میں دینا یا لینا دراصل ایک لازوال عہد ہوا کرتا تھا یعنی ایک دوسرے کے ساتھ وفا نبھانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کا پیمان”۔
Yes, exchanging turbans was indeed a highly serious matter rather a pledge of ideal friendship, sincerity & above all loyality. It was never done frequently as it required a great deal of commitment.
Exchanging turbans with a close & faithful friend was a symbol of life-long friendship based on loyality. In case, anyone used to say that Mr. XYZ is a turban-exchange friend of his father, uncle or brother, it was understood that the said person would do anything in terms of making sacrifice for his friend & his family. It was a BIG responsibility & regarded as a symbol of "commitment” to fulfill friendship related obligation.
خواتین اور لڑکیاں بھی روایتی طور پر پیار و محبت کے باعث اپنی سہیلیوں سے دوپٹے یا چنریاں اسی انداز میں بدلا کرتی تھیں۔ تاھم پگ وٹی کو کچھ ایسی recognition حاصل تھی کہ اس کیلئے مزید کسی بھی قسم کی کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوا کرتی تھی۔۔۔ اب تو پگڑیاں ہی معدوم ہو گئی ہیں، ان کا بدلا جانا تو بعد کی بات ۔۔۔۔ دوسری طرف ارشد بھٹی جیسے شعراء اپنی منطق بیان کرتے نظر آتے ہیں:
اس شہر میں ملتا ہی نہیں کوئی معزز
دستار مرے پاس ہے سر ڈھونڈ رہا ہوں

خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں، نبھانے والے آج بھی وفائیں نبھا رہے ہیں، بھلے "پگ وٹی” والی روایت نہیں رہی، یہ تو ضمیر و خمیر کے معاملے ہیں، تقریر و تحریر کے ھرگز نہیں۔
ماضی میں پگ وٹی جیسی کمٹمنٹ والے لوگ ایک دوسرے کیلئے جان تک قربان کر دیتے تھے۔۔۔
اس حوالے سے 70s کا بڑوں سے سنا ایک واقعہ یاد آرہاہے۔ میرے چچامرحوم محمد نواز کو دوستیاں رکھنے اور نبھانے کا بڑا شوق تھا۔ ان کی قریبی گاؤں دالہ کی بالی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک غیور نوجوان کے ساتھ "پگ وٹی” تھی۔ چاچا جی کا ایک اور دوست مذکورہ گاؤں کسی کام سے گیا اس کی وہاں کسی سے ان بن ہو گئی، بات کچھ زیادہ بڑھی تو ان صاحب کی حمایت میں وہ "پگ وٹی” والا بالی آگیا، ۔۔۔ معاملہ رفع دفع ہوا تو "بالی” سے پوچھا گیا "اس بندے سے تو تمہارا کوئی تعلق نہیں، تم نے اس کی حمایت کیوں کی؟” بالی نے اطمینان سے جواب دیا "تعلق ھے” پھر بولے "یہ بندہ میرے یار کا یار ھے” ( یہ آدمی میرے دوست نواز کا دوست ھے)۔ میرے نانا جی کی نورپور تھل میں "پہوڑ قبیلہ” کے ایک بزرگ سے "پگ وٹی” تھی، نانا جی کی اولاد اور آگے ان کی اولاد یہ ذمہ داری آج تک نبھاتی آرہی ہے۔ ہمارے وسیب میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں۔

اپنے شوق کے باوجود میں پگڑی تو نہیں باندھتا تاھم
"پگ وٹی” جیسے جذبے والی کچھ دوستیاں ضرور پال رکھی ہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ھے 2007 میں میرے علاوہ کچھ احباب اکٹھے تھے، ایک صاحب نے میرے حوالے سے
"out of jealousy”
کوئی تبصرہ کردیا، نانکانہ صاحب سے تعلق رکھنے والے میرے یار "ناصر چدھڑ” نے اسے روکا، وہ باز نہ آیا۔۔ کچھ دیگر دوستوں سے بعد میں پتہ چلا کہ باز نہ آنے کی صورت میں ناصر کو متذکر شخص سے خاصی "سختی” کرنا پڑی تھی ۔۔۔۔ اس کا موقف تھا "میرے دوست کے بارے میں کوئی بات کرے اور وہ بھی میرے سامنے، یہ ناقابل برداشت ھے”۔۔۔
دنیا بھر میں دوستی کی لاج رکھنے والوں کو سلام۔۔۔

دنیا کی بات ہوئی ہے تو تھوڑا سا حوالہ بین الاقوامی دوستی کا بھی ہوجائے۔۔۔ جی ہاں۔۔ آج پاک – چین دوستی کی بھی 70ویں سال گرہ ھے ۔۔۔ اس "بین الاقوامی پگ وٹی” کو رب کریم تا قیامت رکھے سلامت! آمین
"Long Live Pak-China Friendship!”

عبدالشکور آسی کے اس شعر کے ساتھ اجازت:

اپنی ناموس کی آتی ہے حفاظت جن کو
جان دے دیتے ہیں دستار نہیں دیتے ہیں

دعا گو: ذوالفقارعلی جھمٹ، اسلام آباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں