294

صحت کو قائم رکھنے کے لیے جگر ایک اہم عضو ہے اگر کسی وجہ سے اس میں خرابی پیدا ہو گی تو صحت تباہ ہو جائیگی

*جگر LIVER*

ہمارے جسم کا سب سے بڑاغدود جگر گر ہے جو وزن میں ڈیڑھ کلوگرام یا 50 سے 60 اونس ہوتا ہے ہمارے جسم کا نظام انہظام اور صحت کو قائم رکھنے کے لیے جگر ایک اہم عضو سے اگر کسی وجہ سے اس میں خرابی پیدا ہو گی تو صحت تباہ ہو جائیگی ۔ جگر شکمی کہنے کے بالائی حصہ میں شکم کے نیچے دائیں جانب واقع ہے جسکی حفاظت پسلیوں کے ذریعے ہوتی ہے جبکہ جوانوں کی نسبت بچوں میں اور بچوں کی بہ نسبت جنین میں بڑا ہوتا ہے یہ سرخی مائل بھورے رنگ کا عضو ہے اس کی با ائی سطح محدب ہوتی ہے اور پردہ شکم کے نیچے رہتی ہے اور آب دار جھلی سے ڈھکی ہوتی ہے جبکہ نچلی سطح مقعر اور اس کی صلح پر ایک دو درزوں کے علاوہ سب پر آب دار جھلی رہتی ہے اس سطح کے نیچے معدہ ڈیوڈ نیم دایاں گردہ اور پتہ ہوتے ہیں ۔ جگر کی لمبائی 10 سے 12 انچ ہوتی ہے اور چوڑائی 6 سے 7 انچ ہوتی ہے جگر کا وزن پورے جسم کا چالیسواں حصہ ہوتا ہے ۔

*جگر کی سطحیں [ SURFACE OF THE LIVER ]*

جگر کی پانچ سطحیں ہوتی ہیں جن کو بالائی زیر میں ابھی اور دائیں جاتی تھیں کہتے ہیں ۔ *بالائی سطح ۔*
محدب ہوتی ہے اور صفاق سے ڈھکی ہوئی ہے ۔
*زیریں سطح* مقعر ہوتی ہے اور زیر میں کنارے کی وجہ سے دوسری سطحوں سے الگ پہچانی جاتی ہے
*اگلی سطح* یہ کم وبیش تکونی ہوتی ہے
*پچھلی سطح* چوڑی اور گول ہے
*دائیں جانب سطح*
محدب ہوتی ہے اور جگر کا اساس بناتی ہے
*جگر کے رباطات [LIGAMENTS OF THE LIVER ]* جگر پردوشکر سے چار باتوں کے ذریئے بندھا ہوتا ہے جو کے مندرجہ ذیل ہیں ۔ *درانتی نمارباطوں* اس کا اگلا کنارا آزاد ہوتا ہے اور یہ جگر کے سامنے کی طرف ہوتا ہے ۔ اس کی دونوں پراتوں کے درمیان رباط مستدریر [ *Round ligament ]*

*رباطات مثاث* دائیں اور بائیں ہوتے ہیں
جگر کے پردہ شکم سے باندھتی ہے ۔
*رباط اکلیلی*

جگر کے پچھلے کنارے کو پردہ شکم سے ملانے کا کام کرتی ہے اور رباط مثلث کے ساتھ مسلسل ہے ۔
*رباط مستدیر*
یہ بند ہوجانے والی در ید [ Umbilical ] ہے جو درانتی نمار باطوں کے درمیان ہے ۔
*جگر کے شگاف*
جگر کے ایک گہرے طولی شکاف [ Longitudinal Fissure ] کے ذریعے دائیں اور بائیں دو خانوں میں تقسیم ہوتا ہے اور بائیں خانے کے مقابلے میں دایاں خانہ چھ گنا زیادہ بڑا ہوتا ہے ۔ دائیں اور بائیں خانے کے درمیان میں پتہ [ Gall Bladder ہوتا ہے ۔

*جگر کے لوتھڑے [ LOBES O THE LIVER ]*
شگافوں کی وجہ سے جگر دو لوتھڑوں میں تقسیم ہو جا تا ہے ایک دایاں جو کہ بڑا ہوتا ہے اور دوسرا بایاں جو کہ چھوٹا ہوتا ہے ۔ دایاں لوتھڑا مزید تین حصوں میں تقسیم ہو جا تا ہے اس اس طرح کل پانچ لوتھر سے بن جاتے ہیں
۔دایاں لوتھڑا
بایاں لتھڑا
مربع نما لوتھڑا
مثلث نما لوتھڑا
دم نما لوتھڑا

*جگر کا بابی نظام [ PORTAL SYSTEM OF THE LIVER ]*
*در بید بانی جگر*
80 فی صد خون جو کے جگر کو درکار ہوتا ہے اس کے ہی ذریعے سے آتا ہے آنتوں سے جذب ہوک رانے والی غذا اس در ید کے ذریعے جگر تک پہنچتی ہے ۔ یہ جگر کی داہنی سطح پراڑے شگاف میں واقع ہے
*شریان جگر*
جگر کودر کا 20 فیصد خون اس کے ذریعے پہنچتا ہے یہ درید بالی کے ساتھ جگر کے اندر داخل ہوتی ہے ۔
*پتہ کی نالی*
یہ دوا نچ لمبی جو کہ جگر کے اڑے شکاف میں واقع ہے ۔ پتہ کی نالی سے مل کر ایک تین انچ لمبی نالی بناتی ہے ۔ جسے صفرا کی عام نالی کہتے ہیں
*جگر کی وریدیں*
یہ جگر کی ساخت کے اندر چھوٹی اور بار یک دریدوں کے باہم ملنے اور اکٹھا ہونے سے بنتی ہیں ان کی وریدوں کے ذریعے شریان جگر اور ور ید باب الکبد کاخون جوجگر میں داخل ہوتا ہے واپس ورید جوف میں جاتا ہے
*پتہ*
یہ ایک مخروطی تھیلی ہے جس کی لمبائی کے لمبائی 7 تا 10 سینٹی میٹر ہے اس کا حجم کم وبیش 50 مکعب سینٹی میٹر کی کیا ہوتا ہے ۔ یہ تھیلی 12 انچ لمبی اور ایک انچ چوڑی ہوتی ہے ۔ پتہ صفرا کا ذخیرہ کرتا ہے اور اس کا ارتکاز کرتا ہے ۔ اس تقریبا نصف چھٹا تک صفرا سما سکتا ہے ۔
*جگر کے افعال*

*صفرا کا افراز*
صفراغذا کے ہاضمے اور انجذاب میں خاص حصہ لیتا ہے یہ جگر کا بہت اہم فعل ہے
*تولید خون*
قلت خون کو روکنے والے عنصر کا ذخیرہ کرتا ہے جنینی زندگی میں خون کے سرخ خلیات بنا تا ہے خون کو جمانے والے عناصر اور خون کو جمنے سے روکنے والے عناصر کی تولید کرتا ہے ۔

*استحالہ*

نشاستہ کے استحالے میں اہم کردار ہے ۔ نشاستہ کو حیوانی شکر کی صورت میں محفوظ اور حسب ضرورت گلوکوز میں تبد یل کر کے دوران خون میں شامل کرتا ہے ۔ چربی یا چکنائی کے استعمالے کی تکمیل کرتا ہے اور جسم کی ضرورت کے مطابق نشاستہ سے روغنی ایسڈ بناتا ہے پروٹین کے استحالے کو آخری مراحل تک پہنچا تا ہے اور یوریا کوخون سے الگ کرتا ہے
*معدنی اجزاء*
لو ہے اور تانبے کومحفوظ کرتا ہے میں دونوں اجزاءخون بنانے کے کام آتے ہیں ۔وٹامن ” A ” بنا تا ہے اور وٹامن اے ، ڈی ور بی 12 کومحفوظ کرتا ہے جسم میں استحالے کے دوران تیار ہونے والے زہریلے اجزاء کو جسم سے خا رج کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ جگر حرارت پیدا کرتا ہے اور ہارمونز کے افعال میں حصہ لیتا ہے ۔

*امراض جگر DISEASE OF THE LIVER ]*
جگر کے امراض کیلئے ہومیو پیتھک علاج کی افادیت روز روشن کی طرح عیاں ہے ہومیو پیتھک ادویات جگر کے کسی بھی مرض میں نہ صرف مرض کا جڑ سے خاتمہ کرتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی قسم کے مضر اثرات جسم پراندرونی و بیرونی طور پر نہیں ہو تے ۔ میری ہومیو پیتھک ڈاکٹرز سے نہایت مود بانه درخواست ہے کہ وہ علاج کے ساتھ ساتھ کلینکل ر پورٹ سے بھی استفادہ حاصل کریں ۔ امراض جگر میں کلینکل رپورٹ کا بہت عمل دخل ہے میں پوری کوشیش کرونگا کہ جن امراض کیلئے گس ٹیسٹ کرانا ضروری ہے اسے تفصیل سے بیان کرسکوں ۔
*جگر کی گرمی CONGESTION OF THE LIVER*

*[ SYMPTOMS ] علامات*
قبض کی شکایت ہوتی ہے
دائیں جانب کی پسلیوں کے نیچے گرانی اور تھوڑ درد بھی محسوس ہوتا ہے ۔
جگر بھی بڑھا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔
دائیں کندھے میں درد ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی بھی جسم پر سوجن اور یرقان کی علامات بھی ملتی ہیں ۔
چہرے سے پیلا ہٹ محسوس ہوتی ہے ۔
*وجوہات*
بہت زیادہ کھانا
تیز مرچوں کا استعمال کرنا ۔
زیادہ گوشت کا استعمال
قبض مستقل رہنا ۔
خواتین میں فتور حیض
ورزش نہ کرنا
شدت گرمی ۔
جگر پر چوٹ کا لگنا
*احتیاطیں*
کھاتے وقت ہمیشہ تھوڑی بھوک رکھیں ۔ پانی کا استعمال کھانے سے قبل فائدہ مند ہے ۔ قبض نہ ہونے دیں ۔ ورزش کو معمول بنا میں
گوشت کا استعمال اس مرض میں نقصان دہ ہے بڑا گوشت مضر صحت ہے
زیادہ مرچوں کا استعمال قطعی بند کر دیں ۔
خواتین میں حیض کی کمی بندش یا ذیادتی حیض کا علاج ضروری ہے ۔
*غذا* FOOD
ایسی غذائیں استعمال میں رہیں جو ہلکی اور ہاضمہ میں فتور پیدا نہ کریں ۔ساگودانہ آتش بو پتلی کھچڑی اور دودھ کا استعمال نہایت فائدہ مند ہے ۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر ملک عرفان مجید کھوکھر*
ڈی ایچ ایم ایس (آر ایچ ایم پی)
بی ایل ایس (سرٹیفائیڈ )
ٹیلی میڈیسن کوآرڈینیٹر سرٹیفائیڈ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور
ڈویژنل صدرکمیونٹی آف ہومیوپیتھیس ڈیرہ غازی خان
سابق ہومیو میڈیکل آفیسر وٹو ہومیوپیتھک ہسپتال ضلع حافظ آباد ۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں