301

سیاست کے لیے ہم اپنے بہت ہی پیاروں اور دوستوں سے محروم نہ ہو جائیں جہاں آج کے دوست کل کے دشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست بن جاتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہزاد فضل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کے ساتھ ساتھ اس وقت سیاسی شدت پسندی بھی اپنے عروج پر ہے۔ڈائیلاگ مکالمہ دوسرے کی رائے کا احترام دلیل منطق اور مثبت تنقید تو معاشرے سے اس طرح غائب ہوئی ہے کہ لوگ ہاتھوں میں تلوار لیے کھڑے ہیں کہ جو کوئی ان کے نظریات ذاتی پسند اور سیاسی وابستگی کے خلاف بات کرے گا اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا۔ شخصیت پرستی تو اتنی رفتار سے آگے بڑھی ہے کہ بت پرست اور آتش پرست بھی ہمیں دیکھ کر شرما گئے ہیں ۔شخصیت پرستی کے سحر کا یہ عالم ہے کہ اپنے پسندیدہ لیڈر کے منہ سے نکلی بات کو ہم الہام کا درجہ دیکر کر بغیر سوچے سمجھے آگے پھیلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔سیاسی عدم برداشت کا یہ عالم ہے کہ لوگ دوستیاں اور رشتہ داریاں بھول کر ایک دوسرے کا منہ نوچنے کو تیار بیٹھے ہیں۔غداری غداری کا اتنا شور ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی ۔حقیقت سے نا بلد ہم جذباتی قوم جھوٹ پروپیگنڈا اور سیاسی منافرت پر مبنی مواد سوشل میڈیا پر دھڑا دھڑ شیئر کر تے جا رہے ہیں ۔اصل میں یہ کام سیاسی جماعتوں کا تھا کہ وہ اپنی داخلی نظام کو مضبوط بناتیں اور اپنے سیاسی کارکنوں کی اس طرح اخلاقی تربیت کرتی کہ سیاسی اختلافات کی صورت میں گالم گلوچ کردارکشی ننگی گالیاں ذاتیات جھوٹ پر مبنی الزامات اور خاندان کی تضحیک کی بجائے لوگ مکالمہ اور بحث و مباحثہ کی طرف آتے تو یقینا ایک بہترین رائے عامہ تیار ہو پاتی مگر ہمارے سیاسی لیڈروں کے جلسوں سے لے کر ٹی وی چینلز تک پگڑیاں اچھالی جارہی ہوں گی اور مخالفین کو گالیاں دے کر ان کو گھٹیا ناموں سے یاد کیا جا ے گا تو وہاں عوام کیوں پیچھے رہے گی ۔اگر ہمارے سیاسی لیڈر ایک دوسرے کا گریبان پکڑ لیں گے تو نیچے عوام ایک دوسرے کے کپڑے تک پھاڑ دیں گے ۔بس ایک بات سوچ لیں کہ جو آپ کی سوچ پسند ہے اور نظریات ہیں لازمی نہیں کہ دوسرا بھی آپ کی ہاں میں ہاں ملائے۔تو خدارا اس سیاست کے لیے ہم اپنے بہت ہی پیاروں اور دوستوں سے محروم نہ ہو جائیں جہاں آج کے دوست کل کے دشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست بن جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں