335

سورج کی براہ راست تپش کے باعث نہ صرف جسم میں پانی کی کمی واقع ہوتی ہے بلکہ یہ تھکاوٹ کا بھی باعث ہے اور جلد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے

اسلام آباد(اے پی پی)طبی ماہرین نے گرمی کی شدت میں اضافے کے پیش نظر شہریوں کو پانی کے زیادہ استعمال کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ شہری دن میں باقاعدگی سے "واٹر بریک” کا شیڈول بنائیں۔ماہرین نے گرمیوں کے دوران ذیابطیس کے مریضوں کودھوپ میں غیر ضروری نکلنے سے گریز کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ سورج کی براہ راست تپش کے باعث نہ صرف جسم میں پانی کی کمی واقع ہوتی ہے بلکہ یہ تھکاوٹ کا بھی باعث ہے اور جلد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے ۔معالج ڈاکٹر جمال پرویز نے اتوار کو اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ گرمیوں میں پانی اور نمک کی مقدار میں اضافہ کرنا چاہیے۔ اگر آپ کو پیاس نہ لگ رہی ہوتب بھی کثرت سے پانی پیئیں۔انہوں نے کہاکہ اگر ممکن ہو تو صبح 11 بجے سے شام 6 بجے تک باہر جانے سے گریز کیا جائے،موسم گرما میں ہائیڈریٹ رہنے کا بہترین طریقہ وافر مقدار میں پانی پینا ہے اس لیے شہری موسم گرما میں پورے دن میں باقاعدگی سے "واٹر بریک” کا شیڈول بنائیں۔گرمی کی تھکن کی علامات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مریض کو بے ہوش یا چکر آنا، تھکاوٹ اور کمزوری، بلڈ پریشر میں کمی، پٹھوں میں درد، پسینہ آنا، تیسرا نبض تیز ہونا اور معمول سے کم پیشاب کرنا شامل ہے، ہمیں ہیٹ اسٹروک کی علامات کو ذہن میں رکھنا چاہیے اور ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے ابتدائی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ۔ڈاکٹر جمال پرویز نے کہا کہ گرمی سے متعلق امراض کی اہم علاماتکے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس میں ہیٹ اسٹروک بھی شامل ہے جو لاعلمی کی صورت میں جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں ۔
بشکریہ روزنامہ جنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں