248

زندگی میں کچھ پریشانیاں، غلط فہمیاں، نقصان اور مصیبتیں ٹوٹے گلاس کی طرح ہوتی ہیں کہ جن کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہیے

😇😇 بھولنا سیکھیں 😇😇

ایک بوڑھا آدمی کانچ کے برتنوں کا بڑا سا ٹوکرا سر پر اٹھائے شہر بیچنے کے لئے جارہا تھا۔ چلتے چلتے اسے ہلکی سی ٹھوکر لگی تو ایک کانچ کا گلاس ٹوکرے سے پھسل کر نیچے گر پڑا اور ٹوٹ گیا۔

بوڑھا آدمی اپنی اسی رفتار سے چلتا رہا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔___ پیچھے چلنے والے ایک اور راہگیر نے دیکھا تو بھاگ کر بوڑھے کے پاس پہنچا اور کہا: ” بابا جی! آپ کو شاید پتہ نہیں چلا، پیچھے آپ کا ایک برتن ٹوکرے سے گر کر ٹوٹ گیا ہے”
بوڑھا اپنی رفتار کم کیے بغیر بولا: ” بیٹا مجھے معلوم ہے ”
راہگیر: ” حیران ہو کر بولا__، بابا جی! ” آپ کو معلوم ہے تو رکے نہیں ”
بوڑھا؛ ” بیٹا جو چیز گر کر ٹوٹ گئی اس کے لیے اب رکنا بےکار ہے،___ بالفرض میں اگر رک جاتا،__ ٹوکرا زمیں پر رکھتا،___ اس ٹوٹی چیز کو جو اب جڑ نہیں سکتی کو اٹھا کر دیکھتا، __ افسوس کرتا، __ پھر ٹوکرا اٹھا کر سر پر رکھتا تو میں اپنا ٹائم بھی خراب کرتا، __ٹوکرا رکھنے اور اٹھانے میں کوئی اور نقصان بھی کر لیتا اور شہر میں جو کاروبار کرنا تھا __ افسوس اور تاسف کے باعث وہ بھی خراب کرتا۔ ___ بیٹا، میں نے ٹوٹے گلاس کو وہیں چھوڑ کر اپنا بہت کچھ بچا لیا ہے”
۔
۔
۔
ہماری زندگی میں کچھ پریشانیاں، غلط فہمیاں، نقصان اور مصیبتیں بالکل اسی ٹوٹے گلاس کی طرح ہوتی ہیں کہ جن کو ہمیں بھول جانا چاہیے، چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔

کیوں؟؟؟؟؟

کیونکہ یہ وہ بوجھ ہوتے ہیں جو

آپ کی رفتار کم کر دیتے ہیں
آپ کی مشقت بڑھا دیتے ہیں
آپ کے لیے نئی مصیبتیں اور پریشانیاں گھیر لاتے ہیں
آپ سے مسکراہٹ چھین لیتے ہیں
آگے بڑھنے کا حوصلہ اور چاہت ختم کر ڈالتے ہیں۔

اس لیے اپنی پریشانیوں، مصیبتوں اور نقصانات کو بھولنا سیکھیں اور آگے بڑھ جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں