262

دھتورے کی دوا کے بارے جانتے ہیں ھومیوپیتھک ڈاکٹر محمد طارق مرزا سے

دھتورے کی دوا کے بارے جانتے ھیں
دوستو
تکبر،تعصب،حسد، اور لالچ نہایت منفی رویئے ھیں ابلیس انہیں رویوں کے ذریعے مخلوق خدا کو راہ راست سے ڈی ٹریک کرتا ھے میری پریکٹس کا زیادہ تر حصہ ذھنی نفسیاتی الجھنوں اور ان کے ھومیوپیتھک حل پر ھے
پاگل پن
توھم پرستی
تعویذ گنڈے
مذھبی جنون
جنسی بے راہ روی
نظر بد
اولاد کا نافرمان ھونا
غصہ میں اول فول بکنا
آسیب زدگی
کسی ماورائی مخلوق کے زیر اثر آنا
تمام ٹیسٹ نارمل ھونے کے باوجود بیماریوں کا پیچھا نہ چھوڑنا
گھریلو لڑائیاں اور میاں بیوی کی آپسی ناچاقیاں
رشتے داروں کی آپسی قطع تعلقی وغیرہ وغیرہ
ایسے مریضوں کو روزانہ کی بنیاد پر درجنوں کے حساب سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ھوں کہ شیطانی وسوسے خیالات کے ذریعے پہلے انسانی سوچ پر حملہ آور ھو کر جسم انسانی کو بیمار کرتے ھیں
دوستو آج میں نے آپ کیلئے جس دوا کا انتخاب کیا ھے طب اور علاج معالجہ کے معمولی سے علم سے واقفیت رکھنے والا بھی اس دوا کے بارے میں ضرور جانتا ھے
جی ہاں، اس دوا کو اردو میں دھتورے کے نام سے جانا جاتا ھے جس کو ھومیوپیتھک طریقہ علاج میں (Stramonium) سٹرامونیم کہتے ھیں
سنسکرت میں اسے راج دھورت جس کا مطلب دیوانہ ھوتا ھے اسی مناسبت سے انگریزی میں (Thorns Apple) بمعنی سیب ابلیس
سندھی میں دھاتو چریو یعنی چبل بے وقوف کم عقل کم فہم
اس دوا کا مقام پیدائش
اس کا اصل وطن برصغیر پاک و ہند اور افغانستان بتایا جاتا ھے مگر یہ اکثر علاقوں میں خود رو ھی اگتا ھے
مستعمل حصہ
یونانی ویدک میں اس کے تمام حصے دوا کے طور پر استعمال کئے جاتے ھیں
ایلوپیتھک طریقہ علاج میں پتے اور تخم دواً مستعمل ہیں
پہچان
اس کے پودے کی لمبائی تین سے چار فٹ تک ھوتی ھے بالعموم جھاڑی کی طرح پھیلا ھوتا ھے شاخوں اور پتوں کے اتصال پر گراموفون کی شکل کا تین چار انچ کا پھول لگا ھوتا ھے جس کا رنگ اکثر تو سفید ھوتا ھے بعض اوقات اودے رنگ کا بھی دیکھا ھے اسی پھول کے خشک ھونے پر بڑے اخروٹ جتنا کرونا وائرس کی شکل کا پھل لگتا ھے اس کی سطح پر بے شمار نوکیلے کانٹے ھوتے ھیں جب پھل پک کر پھٹ جاتا ھے تو نسواری بادامی رنگ کے بیج برآمد ھوتے ھیں جو سرخ مرچ کے بیجوں جیسے ھوتے ھیں جن کا مزہ کڑوا کسیلا اور بو ناگوار ھوتی ھے
ان کا کیمیائی تجزیہ کیا جائے تو ھائیوسائمن اور ایٹروپن پائے جاتے ھیں ان دونوں کو ڈیٹورین بھی کہا جاتا ھے ان اجزاء کے علاؤہ پروٹین اور قلمی شورہ بھی پایا جاتا ھے
پھول کے لحاظ سے کئی اقسام ملتیں ھیں مگر سفید اور سیاہ پھول والا زیادہ مشہور ھے
اس دوا کے ھومیوپیتھک استعمال سے پہلے طب میں استعمال پر بات کر لیتے ھیں
طب یونانی میں اس کامزاج سرد خشک اور ویدک گرم خشک مانتے ھیں
علاج بالضد میں اس کو مرگی کے دورے کے بعد ھونے والے سردرد میں کامیابی سے استعمال کیا جاتاہے
دھتورے کے بیج پیس کر سفوف بنالیں دانتوں اور داڑھ کے سوراخ میں رکھنے سے دانت درد فوری رفع ھو جاتا ھے
امراض قلب میں خفقان کی صورت میں دھتورے کی جڑ کا سفوف بنا کر ایک رتی کا آٹھواں حصہ یعنی ایک چاول کھلانا مفید ھے
مرض ذیابیطس اور جریان میں استعمال ھوتا ھے
اس کے بیج کاسفوف ایک یادو رتی کی مقدار میں سرعت انزال کے مریضوں کو دیا جاتا ھے
اگر کسی عورت کا دودھ خشک کرنا ھو تو اس کے بیجوں کو پیس کر پستانوں پر لیپ کیا جاتا ھے
اس کے پودے کی راکھ بخاروں میں استعمال ھوتی ھے
ھمارے ایک بزرگ حکیم اس کے پتوں کے سگریٹ بلغمی دمہ کے مریضوں کو پلایا کرتے تھے
اسی بات کو بنیاد بنا کر دمے کے ایسے مریض جو تشنج کے باعث سانس کو باھر نہ نکال سکیں میں اس دوا کو 1x طاقت میں دورے کی حالت میں پانچ قطرے نیم گرم پانی میں جلدی جلدی دیتا ھوں جو پھیپھڑوں میں ڈائلیٹر کا کام کرتے ھیں اور تشنجی کیفیت دور ھو کر سانس لینے میں آسانی ھو جاتی ھے
ھومیوپیتھی طریقے سے دوا تیار کرنے سے پہلے دوستوں کو یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایسے مدر ٹنکچر جو کم اور کبھی کبھی استعمال ھوتے ھیں تھوڑی مقدار میں تیار کریں یا کسی اچھی کمپنی کے لیکر ایک ایکس بنا لیں طریقہ کار میں بتا دیتا ھوں
ھومیوپیتھی میں ایسا دھتورا دواً استعمال ھوتا ھے جس کا پھل امرود کی طرح ھو وزنی ھو بیج سیاہ ھوں پھل توڑنے سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ھو اور مزہ پھیکا ھو
اگست ستمبر میں مون سون کی بارشوں کے بعد اس کے پکے ھوئے بیجوں سے قاعدہ نمبر چار جس کا طریقہ کار یہ ھے
خشک بیجوں کا باریک سفوف بنا کر وزن کرلیں اس وزن شدہ سفوف میں پانچ گنا سٹرانگ الکوحل ملا کر آٹھ روز کے لئے اندھیرے ٹھنڈے کمرے میں رکھ دیں
آٹھویں دن فلٹر کر لیں ٹنکچر میں دوا کی طاقت ایک بٹا دس ھوگی جو بذات خود 1x ھے اسی سے ایک اور نو کی نسبت سے دو ایکس اور پھر آگے کی طاقتیں بنائی جا سکتی ھیں
اس دوا کی ھومیوپیتھک آزمائش ڈاکٹر سیموئل ھانمن نے خود اپنی نگرانی میں کروانے کے بعد علامات اکھٹی کیں
اگر کسی نے شیطان کو اصل حالت میں دیکھنا ھو تو سٹرامونیم کے جیو میٹریکل پلان پر مریض کو دیکھ لے
آپ نے سنا ھو گا کہ شیطان بہت بڑا عبادت گزار تھا تو دوستو اس دوا کے مریض بہت عبادت گزار ھوتے ھیں بلکہ ان کو عبادت کا جنون اور غرور دونوں ھوتے ھیں
اس کا مریض بکواسی ھوتا ھے مسلسل بولنے والا کبھی منت سماجت کرے گا کبھی لڑائی جھگڑا کرے گا
کبھی ھنسنے والا کبھی رونے والا
کبھی قسمیں کھاتا ھے کبھی دعائیں دیتا ھے
تک بندی کرتا ھے ھم قافیہ بہت اچھے جوڑ لیتا ھے
بھوت پریت اور ماورائی مخلوق کو دیکھنے کا دعویدار
غیب کی آوازیں اور روحوں سے باتیں کرنے اور کروانے والا تشدد پسند ذھنی مریض کمینہ اور مذھبی جنونی دیکھیں تو سمجھ لیں یہ سٹرامونیم کا مریض ھے اس کا مریض تنہائی اور اندھیرے سے خوف زدہ اور مجلس اور روشنی پسند کرتا ھے
عجیب وغریب احساس یہ ھے کہ میرا وجود لمبا ھے یعنی یہ بھی شیطانی صفت ھے کبر کرتا ھے یا پھر محسوس کرتا ھے کہ میرا ایک اور تیسرا بازو یا تیسری ٹانگ ھے
اس دوا کی مصلح
بیلا ڈونا ٹبیکم اور نکس وامیکا ھیں
حسب سابق اپنے کیس شیئر کرنے سے پہلے انڈیا کے مشہور ومعروف سابقہ ایلوپیتھک ڈاکٹر اور موجودہ ھومیوپیتھ ڈاکٹر مرزا انور بیگ کے حوالے سے عرض کرتا چلوں وہ اس دوا کا تعارف اس طرح کرواتے ھیں
یہ دوا سٹرامونیم آخر کیا ھے؟؟
اس کو سمجھنے کیلئے آپ کو ھمارے ساتھ قبرستان چلنا ھو گا چلئے آپ کو قبرستان کی سیر کراتے ھیں
اس دوا کا تعارف آدھی رات کے بعد جب پورا چاند آسماں پر تیرتا ھے کتے بلیاں گیدڑ ڈر اور وحشت سے روتے ھیں
اس کی تمام خصوصیات شیطان کی سی ھیں یہ بہت بڑا زھر ھے یہ پودا نہ تو جنگل بیابان میں اگتا ھے قبرستانوں کے دروازے اس کی پیدائش کی جگہ ھیں جہاں پر ایک طرف زندگی کی رعنایاں اور دوسری طرف موت کی ھیبت ناکیاں
یہ موت اور زندگی کا رقص، یہ شیطانی چکر، یہ ڈر،یہ خوف،یہ روحانی نورانی اثرات سب ھی تو ھیں جو اس درخت پر اثر انداز ھوتے ھیں
دنیاوی باتیں بھی
آخرت کا منظر بھی
کیونکہ اس کی جڑیں کچھ قبرستان کے اندر سے غذا لیتی ھیں اور کچھ قبرستان سے باھر زندہ دنیا سے
اسی لئے اس میں دنیا و آخرت کے ملے جلے اثرات ھیں
یہاں ایک کیس یاد آگیا
وہ کوئی چودہ پندرہ برس کا نوجوان لڑکا تھا شب برات کو دوستوں کے ساتھ کسی قبرستان میں فاتحہ پڑھنے گیا وھاں ڈر گیا صبح اسے سخت بخار ھوا اور بخار کی حالت میں قرآن کی آیتیں سنایا کرتا جلدی جلدی حالانکہ اسے قرآن پڑھنا بھی نہیں آتا تھا اس لئے مولوی اور عاملوں کو بلایا گیا
لیکن جونہی مولوی یا عامل کوئی سورت یا آیت پڑھتا اس کے ساتھ ھی وہ خود بھی روانی سے وھی آیت اور سورت روانی سے پڑھنے لگتا
جب میں نے اسے دیکھا تو وہ اسٹرامونیم لگا سٹرامونیم تیس طاقت کی چند خوراکوں سے نہ صرف یہ کہ بخار اتر گیا بلکہ اس کی ذھنی حالت بھی بحال ھوگئی
بیماریوں کے نام پر علاج کرنے والوں سے میرا سوال ھے کہ یہ بیماری کون سے وائرس اور جراثیم سے ھوئی ؟؟؟
وہ مولوی جو اس نو عمر بچے کا علاج کر رھے تھے ان میں سے ایک مولوی صاحب بولے ڈاکٹر صاحب آپ جاؤ یہ آپ کے بس کی بات نہیں ھے
میں نے اس دوا کو ھمیشہ ذھنی علامات پر ھی استعمال کرایا ھے
میرا ایک مریض گوناگوں جسمانی امراض کا شکار مثلآ سردرد سے لیکر معدے جگر اور آنتوں کی تمام تکالیف میں مبتلا میرے کلینک پر لایا گیا اس ایک معتبر اور مستند ذھنی علامت پر سٹرامونیم ون ایم سے ٹھیک ھوا عبادت گزار اور اپنے مسلک کے متعلق اتنی دلیلیں کہ مجھے بھی کہتا کہ آپ کا کیا بنے گا نہ آپ کے چہرے پر داڑھی ھے نہ تہجد گزار ھیں مقصد یہ بتانا تھا کہ میں تہجد گزار ھوں مگر میں نے ایک علامت تنہائی سے اور اندھیرے سے خوف زدہ اور وہ یہ بھی سوچتا تھا کہ میرا کوئی ھمزاد بھی ھے الحمدللہ اب ذھنی اور جسمانی دونوں لحاظ سے ٹھیک ھے
ایک ھکلاھٹ کا مریض سٹرامونیم سے شفایاب ھوا علامت مریض جب بولتا تو الفاظ جھٹکے سے ادا کرتا تھا
ایک مذھبی جنونی خاتون جو نفلی روزے رکھنے کی حد درجہ شوقین تھی اور اپنے خاوند کو صرف اس وجہ سے قریب نہیں آنے دیتی تھی کہ میری ساری عبادتیں ضائع نہ ھو جائیں
ھومیوپیتھی میں اس دوا کا درجہ بیلاڈونا اور ھائیو سائیمس کے درمیان آتا ھے
کینابس کا مریض ولائت کا دعویٰ کرتا ھے یا مسیح یا مہدی ھونے کا یا پھر پیغمبری کا دعوے دار ھوتا ھے لیکن سٹرامونیم کا مریض خدا ھونے کا دعویٰ کرتاھے بلکہ اپنے آپ کو خدا سمجھتا ھے
پیارے دوستو
میری تمام پوسٹس میرے مطالعے مشاھدے اور تیس سالہ کلینکل پریکٹس کا نچوڑ ھوتی ھیں اور ھومیوپیتھک طریق علاج کے فروغ کیلئے نالج شیئرنگ کے جذبے کے تحت شیئر کی جاتیں ھیں

آپ سب کیلئے دعاگو اور آپ سب سے دعاؤں کا طالب
ھومیوپیتھک ڈاکٹر محمد طارق مرزا
(03338043010)

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں