340

دریاخان : اندورن شہر میں نوانی گروپ کی سیاسی زندگی کو حمید اکبر خان نوانی نے بریک لگوادی (تجزیہ۔۔ مہرالدین ایوبی)

دریاخان(تجزیہ :مہرالدین ایوبی) اندورن شہر میں نوانی گروپ کی سیاسی زندگی کو حمید اکبر خان نوانی نے بریک لگوادی حویلیوں۔ ایلیٹ کلاس کو ترجیح مخلص اور دیرینہ ووٹرز نظر اندازکرکے سعیداکبرخان نوانی کی شب و روز کی محنت رشید اکبر خان نوانی کی والہانہ محبت اور شعیب رشید اکبر خان نوانی کی اندرون شہر نوجوانوں میں گروپ کی سیاسی پذرائی تمام ڈھیر کردی گئی ان بند حویلیوں اور سیاسی سفید پوشوں سے آج تک شہر کو کچھ نہیں ملا تو نوانی گروپ کو کیا ملے گا دریاخان کے لوگ سیاسی غلامی سے ساتھ نہیں رہے یہ محض "عزت نفس ” پر سب کچھ قربان کردیتے ہیں مزدوری۔ رہڑھیاں۔ ٹھیلے لگانے کو ترجیح دیتے ہیں اس کمائی پر جو تھانوں کی ٹاوٹ گری سے کمائی جائے نوانی گروپ کی شہر میں سیاست زوال پذیر ہوچکی ہے حمید اکبرخان نوانی کو سبق سیکھنا چاہئے کہ” بند حویلیوں” میں مقید رہنے والے کئی نمائندے سیاسی موت مرچکے ہیں عوام میں وہی موجود ہیں جو عوام سے براہ راست ہیں جو اپنے گھروں کے پولنگ اسٹیشن پر "نوانی گروپ ” کو ہرالیکش میں ہارانے کا باعث ہیں ۔جو اپنے وارڑ کی کونسلری ہار جاتے ہیں ان کے عوض نوانی گروپ کے دیرینہ مخلص لوگوں کو ضائع کرنا قائدانہ صلاحیت نہیں ہے شہر میں نوانی گروپ کی سیاسی تباہی کا باعث یہی عناصر ہیں جو ذاتی مفادات پر گروپ کا سیاسی سودا کرتے ہیں ایک طویل مدت بعد سعید اکبر خان نوانی نے دریاخان میں گروپ کے پرانے خاندانوں کے نوجوان اور ووٹرز کو قریب کیا جس کے نتائج سیاسی تناظر میں انتہائی اہمیت کے ساتھ سامنے آئے ہیں شہر جس کو ان ہی گروپ دشمن لوگوں نے نوانی قائدین کے لئے نوگو ایریا بنا رکھا تھا وہاں نوانی قائدین کا والہانہ استقبال ہوا ہے عوام میں نوانی قائدین کو ملنے والی پذرائی دیکھ کر پھر ہمیشہ کی طرح "نوانی گروپ کے آستین کے سانپ” نے حمید اکبر خان نوانی کا کندھا استعمال کرتے ہوئے شہر میں ایسا ماحول پیدا کردیا کہ نوانی قائدین کے کئے مسائل پیدا ہوں اور یہ عناصر فائدہ اٹھا سکیں۔ نوانی گروپ کا مخلص ووٹرز پوچھتا ہے کہ کروڑوں روپے کی ترقیاتی منصوبوں کا نوانی گروپ کو سیاسی فائدہ ہوا ۔نوانی قائدین کو بند حویلیوں اور ان کے خوشامدی شہر کی قیادت کا خواب دیکھ رہے ہیں خودساختہ امیدوار بنے ہوئے ہیں
کیا ۔انجمن تاجران کی سیاست ان کے انجام کے کئے کافی نہیں ۔آج نوانی گروپ کے مقابلے میں مضبوط سیاسی پریشر اینٹی نوانی قیادت کا کمال نہیں ہے بلکہ۔ یہ ان ہی سیاسی منافقین کا کارنامہ ہے نوانی قائدین کو علم ہوناچاہئے کہ "دریاخان” طاقت سے کسی کے قبضہ میں نہیں آتا ہے اس کو "نجیب اللہ خان ” جسیی عظیم قیادت ہی فتح کرسکتی ہے یہ یاد رہے کہ نوانی گروپ کے لوگ ہی پھر ایسی اینٹی نوانی قیادت کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں دریاخان کی باگ ڈور بند حویلیوں اور ان سیاسی سفید پوشوں کی مرہون منت نہیں رہی ہے یہ اعزار ہر دور کے مخلص سیاسی متوسط طبقے کی قیادت کو ملا ہے دریاخان کا نوجوان اپنے ہاتھ سے کماتا ہے وہ کسی ڈیرے دار کی غلامی برداشت نہیں کرتا ہے یہاں سیاسی ماحول اس کا منہ بولتا ثبوت ہے خسور روڑ کے توسیعی منصوبے کی سنگ بنیاد کی تقریب سے نوانی قائدین کو سمحھنا چاہئے کہ "بند حویلیوں اور سفید پوش” گروپ کے نمائندوں کو شہر نے اہمیت نہیں دی گروپ کی سیاسی عزت بیرون علاقے کے کارکنان اور سعید اکبر خان نوانی کی آمد سے بچ گئی ورنہ۔ ۔۔۔بند حویلی کی طرح افتتاح میں بھی” ہم ہی ہم ہوتے” اگر یقین نہ آئے تو حمید اکبر خان نوانی شہر میں ان عوامی نمائندگان کی وساطت سے کوئی عوامی اجتماع رکھ کر دیکھ لے۔ شعیب رشید اکبر خان نوانی جس طرح ایک ایک دکان۔ کھوکھے۔ تھڑے ۔ہر خاص و عام کو آپ نے عزت دی آج اس پھر ضرورت ہے سعید اکبرخان نوانی ان آستین کے سانپوں سے بچیں۔ رشید اکبر خان نوانی دریاخان آج بھی آپ سے 1985والی محبت رکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں