219

خسور روڈ کیلئے 88 کروڑروپے ۔ بھکر روڈ کیلئے فنڈز کیوں نہیں ؟

جشن_برمرگِ_حمیّت

نصیر ناصر دریاخان۔۔۔

ڈھول کی تھاپ پہ بھنگڑےڈالتےدھرتی کےان سپوتوں کوسلام عقیدت۔ جنہوں نے ایم پی اے کی طرف سے خسور روڈ کی تعمیر و مرمت کی افتتاحی تقریب کے عالمی کارنامہ کو بھرپورخراج پیش کرکے ہمارے سرفخرسے بلند کردیئے۔
یہ حلقہ پی پی 90 کے قابل ذکر و قابل فخر شرفاء ہیں جن کے حلقہ کی سب سے اہم ترین شاہراہ #دریابھکرروڈ پردو روز قبل الم ناک حادثہ میں ایک ہی خاندان کے تین افراد کم و بیش چارپانچ سال سے تباہ حال سڑک کی بھینٹ چڑھ گئے۔اور یہ سلسلہ اسی طرح روزانہ کی بنیاد پر عرصہ دراز سے جاری ہے۔اور سیکڑوں گھرانوں کے چراغ گُل ہوچکے ہیں۔مگر سلام ہے ان کی عظمت کو۔ کہ کسی ایک بھی فرد نے یہ گستاخی نہیں کی کہ ایم پی اے سے دست بستہ ہی سہی یہ پوچھ لیتے۔ کہ
خسور روڈ کیلئے آپ کی کاوش سے 88 کروڑروپے کےخطیرفنڈزمنظورکرنے والی حکومت نے بھکر روڈ کیلئے فنڈز جاری کیوں نہیں کیے۔
یہ کوئی پاگل نہیں تھے کہ بھکر روڈ کے قاتل روڈ بننے کا ذمہ دار ایم پی اے کو قرار دیتے اور تقریب کابائیکاٹ کردیتے۔
یہ شہ دماغ اور بادشاہ گر ایسی گری ہوئی حرکت کیسے کرتے کہ چند لاشے اٹھنے پر رنجیدہ ہو کر اپنے عظیم اور عالمی سیاسی رہنما کامزہ کِرکَرا کردیتے۔
یہ میری یا آپ کی طرح بے وقوف بھی نہیں تھے۔کہ چاردن کی زندگی کوکسی ایرے غیرے کی خاطر بدمزہ کرلیتے۔اور زمینی خدا کی ناراضی مول لے لیتے۔
اور ذرا غور سے دیکھیئے تو ایم پی اے کےچہرے مہرے اوربُشرے سے شرمندگی یاخجالت کی کوئی ہلکی سی رمق بھی کہیں نظرآرہی ہے؟ قطعاً نہیں۔کیونکہ وہ ان حادثات کے ذمہ دار ہیں نہ ہی ان کا تدارک ان کا مسئلہ ہے۔
یہ اس معاشرے کاآئینہ ہیں۔اورانہی کے دم سے معاشرے کی سانس چل رہی ہے۔ اور یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ غیرت وحمیت کےجہالت بھرے نعرےاب کسی کام کے نہیں۔ سو انہوں نے جشن منایا۔آپ بھی عقل سے کام لیں۔اور موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔کہ زندگی چار دن کی ہے۔مزے سے جیناہی زندگی ہے۔ ڈھول بجاؤ بھنگڑے ڈالو۔لڈیاں پاؤ۔
کیونکہ
جشن بَرمَرگِ حَمیّت کا مزہ لینا ہے
ہم جو زندہ ہیں توجینے کا مزہ لیناہے

ہم ہیں آزاد مزاجی سے بغاوت کرتے
مے غلامی کی ہی پینے کامزہ لیناہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں