231

تھل کی تپتی ریت سے سیاچن کے برف پوش پہاڑوں پر کلمہ حق بلند کرنے والے جانباز

محافظ جو ٹھہرے ۔چار دن کا قرض۔
تھل کی تپتی ریت سے سیاچن کے برف پوش پہاڑوں پر کلمہ حق بلند کرنے والے یا دشمن کے ملک کے راز چرانے والے ، کسی بھی جانباز سے پوچھو کہ آخر کیسے کر لیتے ہو تم یہ سب ، کیسے سردی گرمی بھوک پیاس برداشت کرتے ہو ۔ اپنا فرض اتنا اچھے سے کیسے ادا کرتے ہو ۔ ؟
تو ان سب کا ایک ہی جواب ہوگا
محافظ جو ٹھہرے
محافظ ہونے کا مطلب اپنی جان اپنے وطن و سرزمین کے لیے وقف کرنا، اپنی جوانی دوست ، گاؤں محلے کو چھوڑ کر آدھی سے زیادہ زندگی فرض کی ادائیگی میں گھر سے دور گزار دینا محض تنخواہ کا حصول نہیں ہے ۔ تنخواہ تو سبھی لیتے ہیں پھر کیوں سبھی اپنا فرض ادا نہیں کرتے ہیں اور جو اپنا فرض ادا کرتے ہیں گالیاں بھی انکو پڑتی ہیں مگر وہ چپ چاپ سہتے ہیں کیا کریں
محافظ جو ٹھہرے
گھر میں بیٹھ کر باتیں کرنا آسان ہوتا ہے ۔ میدان میں ثابت قدم صرف جوان ہی تو رہتے ہیں

اللّٰہ کی رحمت سے اس ملک کے محافظوں پر اللّٰہ کی رحمت ہے ۔ فرض ادا کیا جاتا رہے گا ،
وطن ریے آباد ، یہ جان ، جوانی ، وطن کی خاک پر قربان
سبز ہلالی پرچم کو کبھی نا جھکنے دیا جائے گا نا گرنے دیا جائے گا…!!!

♥️

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں