372

تل ( Sesame ) ایک تیل دار فصل ہے ۔ بہتر پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل ہونے کے ساتھ ساتھ اگر موسمی حالات بھی ساز گار ہیں تو 12 سے 15 من اوسط پیداوار مل دے سکتے ہیں

تل کی بیماریاں اور انسداد
تحریر:
1۔ عمر فاروق ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن ڈسٹرکٹ بھکر
2۔ بلال احمد اگریکلچرل آفیسر تحصیل دریا خان ضلع بھکر
تل ( Sesame ) ایک تیل دار فصل ہے ۔ بہتر پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل ہونے کے ساتھ ساتھ اگر موسمی حالات بھی ساز گار ہیں تو 12 سے 15 من اوسط پیداوار مل دے سکتے ہیں ۔ عام طور پر تل کی کاشت جون کے مہینے میں ہوتی ہے ۔
تل کی فصل میرا اور ہلکی میرا زمین میں کاشت کی جاتی ہے ۔ اس وقت پنجاب میں محل کی کاشت زیادہ تر سرگودھا ، حافظ آباد ، فیصل آباد ، ٹو بہ ٹیک سنگھ ، جھنگ ، گجرات اور اوکاڑہ میں کاشت ہوتی ہے ۔
یہ درمیانی حد تک طویل جڑوں والی فصل ہے ۔ اس لیے زمین درمیانی گہرائی تک تیار کرناضروری ہے ۔ جڑوں کے لحاظ سے یہ بہت نازک فصل ہے ۔ اس لیے یہ فصل گرم اور خشک آب و ہوا میں بہتر پیداوار دیتا ہے ۔ جون یا جولائی میں کاشت کی صورت میں اگاؤ کے دو ہفتوں بعد بارش بہت فائدہ دیتی ہے ۔
تل کی اقسام
تل کی موجودہ اقسام میں ٹی ایچ -6 ( تلی ) ، ٹی ایس- 3، ٹی ایس-5 اور ٹی 89 شامل ہیں ۔ ٹی ایچ – 6 کے دانے موٹے ہوتے ہیں لیکن رنگت در میانی سفید ہوتی ہے ۔ مضبوط تنے کی وجہ سے کاشتکاروں کے لیےٹی ایچ – 6 زیادہ مناسب ہے ۔ کیونکہ فصل آندھی اور بارش سے محفوظ رہتی ہے ۔
(1) جڑ اور تنے کی سڑن ( Stem Root Rot )
جڑ اور تنے کی سڑن ایک پھپھوندی سے پیدا ہوتی ہےجسے میکروفومینافزیولائینا Macrophomina Phoesolin کہتے ہیں ۔
بیماری کی پہچان اورعلامات
اس پھپھوندی کے تخم ریزے ( Spore ) زمین میں رہ کر پرورش پاتے ہیں اور پودے کی افزائش کے وقت حملہ کرتے ہیں بیری کی صورت میں پودے کا تنا گلنے سڑنے کے ساتھ سیادر نگت اختیار کر لیتا ہے ۔ پھپھوندی کے تخم ریزے چھوٹے چھوٹے کالے دھبوں کی شکل میں تنے پر دیکھے جاسکتے ہیں۔
پھیلاؤ
1 – بذریعہ زمین 2- خس و خاشاک 3۔ بذریعہ بیج
انسداد/علاج
1. متاثرہ کھیت میں آئندہ سال یہ فصل کاشت نہ کر میں اور فصل کے ادل بدل کے طریقے پر عمل کر یں ۔
2. بیج کو پھپھوندی کش زہر تھائیو فینیٹ میتھائل بحساب 2.5 گرام فی کلو گرام بیج لگا کر کاشت کریں ۔
3. فصل کو سوکا نہ دیں ۔

(2) اکھیٹرایامرجھاؤ
یہ ایک پھپھوندی کے ذریعے ہوتی ہے جسے فیوزیریم اکسی سپورم Fusaraium Oxysporum کہتے ہیں۔
بیماری کا تعارف اور علامات

ابتدائی طور پر پودے کی جڑ میں گلنا شروع ہوتی ہیں بعد میں پودے آہستہ آہستہ مر جھانا شروع کر دیتے ہیں ۔ آخر کار پورا پودا خشک ہوجاتاہے ۔ پانی کی کمی سے بھی یہ
علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ مگر پانی دینے سے پودا دوبارہ بڑھنے لگتا ہے ۔ بیاری کی صورت میں پودا پانی دینے سے صحت یاب نہیں ہوتا بلکہ بالکل سوکھ جا تا ہے ۔

پھیلاؤ
1. بذریعہ زمین پھیلتی ہے ۔
2. بیمار پودےکےخس وخاشاک زمین میں دبے رہنے سے پھیلاؤ بڑھتا ہے ۔
3. بذریعہ بیچ پھیلتی ہے ۔
انسداد / علاج
1. بیج کو پھپھوندی کش زہر تھائیو فینیٹ میتھائل 2.5 گرام یا ڈائی فینا کونازول1 ملی لیٹر فی کلوگرام بیج لگا کر کاشت کریں۔
2. فیصل کو سوکانہ دیں ۔
3. فصلوں کا ادل بدل اپنائیں ۔

(3) کالر راٹ ( Collar Rot )
یہ فائٹو فتھمورا میگاسپر ما (Phytophthora megasporma) کی وجہ سے ہوتی ہے۔
بیماری کا تعارف اور علامات

یہ بیماری بذریعہ آبپاشی بیمارپودوں سے زیادہ پھیلتی ہے ۔ اس بیماری کے تخم ریزے جنہیں زو و سپورز ( Zoospores ) کہتے ہیں ۔ پانی کے ذریعے تیر کر زمین کی سطح سے پودے پر حملہ کر کے پودے کے تنے کے گرد سیاہ رنگ کا دائرہ بناتے ہیں بعد میں یہ دائرے زیادہ بڑے ہو جاتے ہیں اور پودا زیادہ سوکھ جاتا ہے اور اس سے پودے کی جڑ میں بھی گلناشروع ہو جاتی ہیں۔
پھیلاؤ
1. خس و خاشاک
2. بذریعہ جڑی بوٹیاں
3. بذریعہ آبپاشی
انسداد / علاج
1. پیاری ظاہر ہونے پر پھپھوندی کش زہر + مینالیکسل + مینکو زیب یا فوسٹائل ایلومینیم بحساب 250 گرام فی ایکڑ پانی میں حل کر کے تنے کے نچلے حصے پر سپرے کریں ۔
2. بیماری کی علامات شروع ہونے پر بیمار پودےجڑسے اکھاڑ دیں ۔
3. آبپاشی اس طرح کریں کہ پانی پودے کےتنے کو براہِ راست نہ چھوئے۔

(4) تل کا بٹورا (Phyllody)
یہ مائیکو پلازمہ کی وجہ سے ہوتی ہے ۔
بیماری کا تعارف اور علامات
یہ مرض رس چوسنے والے کیڑے کے ذریعے بیمار پودوں سے صحت مند پودوں تک منتقل ہو تا ہے ۔ پھول کے نر اور مادہ حصے پتوں کی طرح سبز اور موٹے ہو جاتے ہیں اور پھل بنانے کے قابل نہیں رہتے بعض اوقات بیمار پودے پر صحت مند پھول بھی نظر آتے ہیں جو کہ بعد پھل پید اکئے بغیر گر جاتے ہیں ۔

پھیلاؤ
بذریعہ رس چوسنے والے کیڑے
انسداد / علاج
1۔ یہ بیماری رس چوسنے والے کیڑوں کے ذریعے پھیلتی ہے لہذا ان کیڑوں کے انسداد کے لیے بائی فیتھرین بحساب 350 ملی لیٹریاامیڈا کلوپرڈ 20ایس ایل بحساب 200 ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کریں تا کہ بیماری کو پھیلانے سے روکا جائے۔
2۔ بیماری والے پودےاکھاڑکرتلف کردیں ۔
3۔ تل کی کاشت سفارش کردہ وقت سے پہلے نہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں