355

تلخ حقائق کا ذرہ غورسے مشاہدہ کریں ایسا وقوعہ کسی بھی جگہ اورکسی کے خلاف بھی ہوسکتاہے

عنصراقبال_چھینہ_اور_احتجاج_مشتری_ہوشیارباش_
ایسا_وقوعہ_کسی_بھی_جگہ_اورکسی_کے_خلاف_بھی
ہوسکتاہے_تلخ_حقائق_کا_ذرہ_غورسے_مشاہدہ_کریں
میں گزشتہ عیدالفطر کی نماز کی ادائیگی کے لیئے جامع مسجد میں گیاحال پر نظر دوڑائی نمازیوں سے بھراہوا تھا
ہمعصر چہرے تلاش کرنے کی کوشش کی تو محسوس ہوا کہ انہیں تو انگلیوں پہ گنا جاسکتا ہے۔لیکن باقی یہ کون؟
تمام کے تمام نوجوان تھے۔اپ بھی اردگرد محفلوں میں اسی نقطہ نظر سے دیکھیں۔آبادی کے بڑھتے دباؤ نے سب کچھ بدل کے رکھ دیا ہے۔
میں ستر کی دہائی کا جوان ہوں۔بھٹو کاعہد ازبر ہے۔بقیہ عمر جنرل ضیاء ودیگر حکومتوں میں گذری ہے۔میرے ہم عصروں کے بچوں کے بچے بھی جوان ہو چکے ہیں۔جوکہ تیسری نسل بنتی ہے۔
عہد جدید کے سوشل میڈیا نے نوجوان نسل کو وقت سے پہلے بلوغت کی منزل تک پہنچا دیا ہے۔روائتی شرم وحیا
اور رکھ رکھاؤجب گھروں میں نہیں رہا تو پھر آپ میلوں ٹھیلوں میں ایسی توقع کیسے رکھیں گے۔
یہ قیامت کی نشانیاں ہیں بھائی چارہ۔۔شرم وحیاء۔۔کے کلچر کو دفن کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔
تیرا۔تیرا۔۔چودہ چودہ سال کی نسل جو گل کھلا رہی ہے اور
جس طرح والدین کے منہ پر کالک ملی جا رہی ہے یہ بہت بڑی الارمنگ صورت حال ہے۔وہ دور لد گئے جب لوگ کہتے تھے کہ اس خاندان کے ساتھ ہمارے بزرگوں کی پگ وٹی تھی۔یا پھر فلاں لوگوں کے ہمارے گھر پر بڑے احسان ہیں
یا پھر اسںاں اس گھر دی نمک کھادی ہوئی اے۔۔۔
جہاں ہر شعبہ تننزلی کا شکار ہوا ہے وہاں سیاست بھی اس سے محفوظ نہیں رہی۔۔میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟
بس صرف اتنی سی گزارش کروں گا کہ خدارا ذرہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ارد گرد کے ماحول پر نظر ڈالیں۔۔لگ پتہ۔۔جائے گا۔۔۔اب باگ ڈور نوجوانوں کے ہاتھ میں ہیں جوکہ جذباتی اور جنونی ہیں۔۔معاشرے کو بگاڑنے میں رہی سہی کثر قومی سیاسی نورا کشتی نے نکال دی ہے۔جب قوم کے سربراہ عوام کی تربیت اور اس کی بنیادی ذمہ داریوں سے
ہاتھ کھینچ لیں گے تو پھر یہ قوم نہیں بلکہ ایک شتر بے مہار ہجوم بن جائے گا۔عہد جدید کے تلخ حقائق کا ہم کو سامنا ہے۔انکھیں بند کرنے سے بات نہیں بنے گی ہر فرد کو اپنا اپنا فرض ادا کرنا ہوگا ۔
معاشرےکے بگاڑ میں سیاست دان پہلی دفعہ چیلنج سے دوچار ہوئے ہیں نوجوان نسل میں فطری طور پر ایک بھر پور ردعمل ابھر کر سامنے آیا ہے۔جس کی وجہ محرومیاں۔تعلیم کا فقدان۔۔تربیت کی کمی یا پھر اسے اپ ناانصافی سے بھی تشبیہ دے سکتے ہیں بحر حال پانی سر سے گذر چکا ہے
انے والے الیکشن میں ایسا ناخوشگوار واقعہ کسی بھی جگہ ہا پھر کسی سے بھی ہو سکتا ہے ہمیں صبر اور دانش مندی سے اگے بڑھنا ہو گا۔میری اس تحریر سے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو پیشگی معذرت۔۔
اپنا خیال رکھیئے گا اللہ پاک آپ کو اور ہم سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔۔آمین۔ثم امین
ملک نیاز حسین راں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں