290

بھیڑ بکریاں پال کر اپنی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے

تخفیفِ غربت کیلئے کیے جانے والے اقدامات.
تحریر:
رانا طارق علی چوہان.
آجکل ہر کوئی مہنگائی، تنگدستی اور غربت کا رونا رو رہا ہے.
آمدن کم اور اخراجات بیشمار، کنبے کے افراد زیادہ اور کمانے والے کم یا کچھ بیکار.
وطن عزیز ایک زرعی ملک ہے, جہاں سادگی سے زندگی گزارنے کیلئے ہر شے موجود ہے.
پہلے کہا جاتا تھا کہ زمیندار کو سوائے نمک کے کوئی
شے نہیں خریدنی پڑتی۔ ایک دو ایکڑ کا زمیندار
اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات خود پورا
کر سکتا ہے، اگر تھوڑی سی ترتیب اختیار کرلے۔
گائے، بھینس، بکری پال کر دودھ، دھی تو کیا بذریعہ گوبر ایندھن تک کی اپنی روز مرہ ضرورتیں خود پورا کر سکتا ہے.
یہی نہیں بلکہ اس سے کچھ آمدنی بھی حاصل
کر سکتا ہے، نیز بھیڑ بکریاں پال کر اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتا ہے.
مرغ بانی اور شہد سے بھی ذارئع آمدن میں اضافہ کاذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے دیہاتوں میں بھی شہری طرز زندگی اختیار کرنے
کی بھیڑ ھ چال شروع ہے.
مرغیاں پالنا اس لیے چھوڑ دی گئی ہیں کہ یہ گندگی پھیلا تی ہیں۔ گائے، بھینس نہ رکھنےکا جواز اہک دوست چیئرمین طارق نے بتایا کہ ہمارا بھوسہ اتنے زیادہ روپوں کا فروخت ہو جاتا ہے کہ ہم اس سے دودھ خرید کر استعمال کرلیتے ہیں اور اس طرح فائدے میں رہتے ہیں.
مزید یہ کہا کہ نوکر رقبہ پر اپنے جانور بھی پالتے ہیں، اپنے جانوروں کی خوب دیکھ بھال کرتے ہیں، جبکہ ہمارے جانوروں کی کم، ہمیں اپنے پالتو جانوروں کا دودھ بہت ہی مہنگا پڑتا ہے.
اس طرح کے عذر تراش کر مویشی نہ رکھنے کا ٹرہنڈ
اب چھوٹے زمینداروں میں فروغ پا رہا ہے.
ماضی میں دیہاتی لوگوں کی یہی جائیداد انکی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ ایمرجینسی کی صورت میں انکے لیے ایک بڑا اثاثہ ہوتی تھی. سادہ طرز زندگی چھوڑ کر پرتکلف طرز زندگی اختیار کی جا رہی ہے۔ دیہاتوں میں کم آمدنی والے بھی ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں رہنے لگ گئے ہیں اور بجلی کے بھاری بھر کم بل ادا کر رہے ہیں.
ٹیٹرا پیک ملک، انڈے، دالیں اور سبزیاں خریدنے سے کم آمدنی والے افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں.

لیکن خود انحصاری اور خود کفالت کی راہ پر چلنے
پر تیار نہیں بقول شاعر.
قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے کہ ہاں
رنگ لاے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن۔
تخفیفِ غربت کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں:
1۔ مائیکرو فنانس بینک بلا سود قرضے روپوں کی بجائے اشیا اور مال مویشیوں کی صورت میں دیں.
2۔ غریب عوام کو بھیڑ، بکریاں، مرغیاں گائے، بھینس، کریانہ سٹور کے آئٹم وغیرہ دیکر انکی نگرانی کی جائے۔
3۔ مناسب تربیتی پروگرامز کے ذریعے چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کرائے جائیں، نیز ایسے افراف کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
بینک اور حکومتیں لوگوں کو رقم فراہم کر تے ہیں، غریب لوگ امداد کی مد میں ملنے والی اور قرضوں کی رقوم شادی بیاہ اور دیگر کاموں پر خرچ کر دیتے ہیں۔ اس طرح صورتحال پہلے سے بھی گمبھیر ہو جاتی ھے، اسلئے قابل عمل اقدامات کیلئے مشروط ادائیگی لازمی قرار دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں