231

بزرگوں کا خیال رکھیں بڑھاپا انسان کی زندگی کا ایک سخت ترین مرحلہ ہے

بزرگوں کا خیال رکھیں

بڑھاپا انسان کی زندگی کا ایک سخت ترین مرحلہ ہوتا ھے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ انسان کی طبعی زندگی کے آخری ایام، کمزوری، ماضی کی یادیں، کچھ پچھتاوے اور سب سے بڑھ کر تنہائی۔ تاھم شہروں کی نسبت دیہاتوں میں آباد بزرگ کسی حد تک زیادہ خوش قسمت ہیں کہ انھیں جوائنٹ اور ایکسٹنڈڈ فیملی نیز کمیونٹی سپورٹ ھمہ وقت میسر ہوتی ھے۔ دیہاتوں میں یہ سسٹم مضبوط ہونے کی وجہ سے بزرگوں کو روزمرہ زندگی میں قدر کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے۔ آس پاس موجود فیملی ممبرز، رشتہ دار، محلے دار اور گاؤں والے ان کو تنہائی کا زیادہ احساس نہیں ہونے دیتے۔ چونکہ ان کے مسائل کا سب سے بڑا حل کسی نہ کسی شکل میں لوگوں کا آس پاس موجود ہونا ھے، اسلئے یہ عوامل زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ شہروں میں لوگوں کو اپنے بزرگوں کا خیال نہیں یا دیہاتیوں کی نسبت کم ھے، ایسا ہرگز نہیں۔ دراصل شہروں میں لوگوں کے معمولات زندگی دیہاتوں کی نسبت یکسر مختلف ہیں۔ زیادہ تر مختصر فیملی یونٹس، ملازمت پیشہ لوگوں کی مجبوریاں، افرا تفری یا نفسا نفسی کا عالم، مقابلے کا رجحان وغیرہ ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے افراد خانہ یعنی بچے اور ان کے بچے بزرگوں کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے۔ بعض و اوقات لوگوں کے کام پر چلے جانے اور بچوں کے اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں چلے جانے کی وجہ سے بزرگوں کو دن بھر اکیلے رہنا پڑتا ھے، اور یہی اکیلے رہنا ہی ان کا سب سے بڑا مسئلہ ھے۔

شہروں اور دیہاتوں میں لوگوں کے معاشی مسائل بھی اپنی جگہ لیکن، بزرگوں کو تو معاشی سے زیادہ سماجی کفالت درکار ہوتی ھے۔ بس عزت، احترام اور پیار ان کا استحقاق سمجھ لیجئے۔ اس تناظر میں انھیں وقت دینا اور صلہ رحمی جیسے معاملات بہت ضروری ہیں، بقول شاعر مشرق علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ:

ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

اس خوبصورت دعائیہ شعر میں "عظیم فلاسفر” غریبوں کی حمایت کے ساتھ درد مندوں اور ضعیفوں سے محبت کی عطاء مانگ رھے ہیں۔ اس شعر کے مطابق ضعیفوں سے مراد فقط اپنے بزرگ ہی نہیں بلکہ اپنے پرائے سب بزرگوں کیلئے محبت کا درس دیا گیا ھے۔ اسی تناظر میں دیہی زندگی کے فطری نظام کو فوقیت حاصل ھے جس میں لوگ ایک دوسرے کو نہ صرف براہ راست جانتے ہیں بلکہ اپنے پرائے کے دکھ درد کی خبر گیری کے ساتھ ساتھ کمزوروں کی داد رسی بھی کرتے ہیں۔ بزرگوں کے معاملے میں ان کی بہترین داد رسی ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنے کے علاوہ انھیں وقت دینا نیز ان کی بات سننا ھے۔

اس ضمن میں ایک خاص کام بزرگوں کی پرانی چیزوں کو چھیڑنے سے اجتناب ھے، کیونکہ ان سے انھیں بہت ہی خاص وابستگی ہوتی ھے۔ ان کا پرانا صندوق فالتو سمجھ کے پھینک دینا، کوئی پرانا درخت کاٹ دینا، ان کی پسند کا مال مویشی فروخت کردینا جیسے کام بزرگوں کو باقاعدہ دھچکا لگانے کے مترادف ہیں، اس لئے قسم کے کاموں سے ہر صورت بچنا چاہیئے، بقول سید قیص رضا:

ضعیف پیڑ نشانی تھا جو محبت کی
وہ کٹ چکا تھا مسافر جو لوٹ کر پہنچے

بزرگوں کیلئے قانون سازی اور سرکاری و نجی سطح پر رہائش و کفالت نیز معاشی و سماجی بحالی جیسے اقدامات کی اہمیت اپنی جگہ لیکن جو احساس اپنوں کے ساتھ فطری نظام میں رہنے کا ھے، اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جن احباب کے والدین الحمد للہ میری طرح زندہ ہیں وہ اللہ کا بہت بڑا انعام سمجھتے ہوئے شکر بجا لائیں اور جن کے بزرگ اس دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں وہ اس ماہ مقدس میں ان کے درجات کی بلندی کیلئے دعا فرمائیں۔ اس نعمت کا احساس ان لوگوں کو زیادہ ہوگا جن کے بزرگ اس دنیا میں نہیں رھے، بقول حماد نیازی:

ضعیف انگلی کو تھام کر میں
بڑی سہولت سے چل رہا تھا

بزرگ اگر خوشی سے اپنی ذاتی بہتری یا کمیونٹی کے مفاد کیلئے بڑھاپے کے باوجود کوئی کام کرنا چاہیں تو انھیں روکا ہرگز نہ جائے بلکہ ان کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ ان کا یہ contribution نا صرف productive ageing کے زمرے میں آتا ھے بلکہ ان کی ذہنی و جسمانی صحت کیلئے ضروری بھی۔

ھماری دینی تعلیمات بلاشبہ بزرگوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے ھم پر اھم ذمہ داری عاید کرتی ہیں۔ آئیے آج سے تہیہ کریں کہ اپنے اور پرائے سب بزرگوں کیلئے ہر ممکن حد تک صلہ رحمی کی کوشش کریں گے۔

خیر اندیش: ایک پروفیشنل سوشل ورکر و علمبردار انسانی حقوق، ذوالفقارعلی، جھمٹ اسلام آباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں