359

انہوں نے اپنی پوری جوانی تحریک آزادی کیلئے وقف کردی ۔ 56سالہ یاسین ملک نے زندگی کا بیشتر حصہ جیل ہی میں گزارا

56سالہ یاسین ملک مجاہد سے سیاسی رہنما بنے ، عمر کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزارا
26 مئی ، 2022
کراچی (نیوز ڈیسک) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے اہم اور سرگرم رہنما ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری جوانی تحریک آزادی کیلئے وقف کردی ۔ 56سالہ یاسین ملک نے زندگی کا بیشتر حصہ جیل ہی میں گزارا، وہ ایک مجاہد سے سیاسی رہنما بنے ، 1994ء میں ہتھیار پھینک کر سیاسی تحریک کا حصہ بنے۔ اوائل عمری میں ہی اپنی انقلابی طبیعت کے سبب مشہور ہوئے، 1984میں پہلی بار گرفتار ہوئے، یاسین ملک وادی کشمیر میں مزاحمت کے استعارے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔انہوں نے ہمیشہ مزاحمتی تحریک کی قیادت خود کی اور کئی مواقعوں پر پولیس اور فوجیوں کے براہ راست تشدد کا نشانہ بنے ۔ انہیں دوران قید بدترین تشدد کا سامنا کرنا پڑا جس سے ان کا چہرہ اور ہاتھ بھی متاثر ہوا۔ یاسین ملک تین اپریل 1966 کو سری نگر میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بھارتی کی سکیورٹی فورسز کشمیری میں عام شہریوں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنا رہی تھی۔ یاسین ملک نے اسی تشدد ذدہ ماحول میں پرورش پائی۔سری نگر میں ٹیکسی ڈرائیوروں پر بھارتی فوج کے تشدد کے ایک واقعے کے بعد یاسین ملک نے ’تالا پارٹی‘ کے نام سے ایک گروپ ترتیب دیا۔ اس گروپ نے 1983 میں سری نگر کے شیر کشمیرا سٹیڈیم میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری میچ کے وقفے میں پچ اکھاڑی دی اور میچ ملتوی کروا دیا۔یاسین ملک اس وقت کشمیر میں برسر اقتدار جماعت نیشنل کانفرنس کے خلاف ایک نمایاں طالب علم رہنما کے طور پر ابھرے اوراس جماعت کی کئی سیاسی سرگرمیوں کو تلپٹ کرتے رہے۔بھارت نے 11 فروری 1984 کو معروف کشمیری رہنما مقبول بٹ کو تہاڑ جیل میں پھانسی دی تو کشمیر میں پرتشدد احتجاجی تحریک شروع ہوئی جو کئی سال تک جاری رہی۔ اس تحریک کے دوران یٰسین ملک کو پہلی مرتبہ گرفتار کر لیا گیا اور یہیں سے ان کی باقاعدہ اٹھان شروع ہوئی۔جیل سے واپسی پر یاسین ملک نے 1986 میں اپنی ’تالہ پارٹی‘ کا نام بدل کر ’اسلامک اسٹوڈنٹ لیگ‘ رکھا اور باقاعدہ سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق1989 میں یاسین ملک نے مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں کے ذریعے اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ مفتی سعید کی بیٹی ربیعہ سعید کو اغوا کروایا تاکہ جیل سے اپنے ساتھیوں کو رہا کروا سکیں۔ اس واقعے میں جن لوگوں کو رہا کروایا گیا ان میں یٰسین ملک کے قریب ساتھی اشفاق مجید وانی، مقبول بٹ کے بھائی غلام نبی بٹ، نور محمد کلوال، محمد الطاف اور مشتاق احمد زرگر شامل تھے۔مارچ 1990 میں ایک گوریلا کارروائی کے دوران جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے کمانڈر ان چیف اشفاق مجید وانی مارے گئے اور یٰسین ملک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ وہ 1994 تک جیل میں رہے اس دوران لبریشن فرنٹ کی زیادہ تر قیادت کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے مار دیا گیا یا گرفتار کر لیا۔2005 سے 2009 کے درمیان ان کا پاکستان میں کافی آنا جانا رہا اور اس دوران یاسین ملک کے ایک پاکستانی آرٹسٹ مشعال ملک کے ساتھ تعلقات استوار ہوئے۔لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کئی دوستوں اور خیر خواہوں کے منع کرنے کے باوجود یاسین ملک نے 2009 میں مشعال ملک سے شادی کر لی اور 2012 میں ان کے ہاں ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ 13سالہ ازدواجی زندگی میں انہوں نے صرف دو ماہ کا عرصہ اپنے خاوند کے ساتھ گزارا۔
بشکریہ روزنامہ جنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں