259

افغان فورسز کی فائرنگ سے بند بابِ دوستی کھول دیا گیا

بلوچستان کے ضلع چمن میں پاک افغان سرحد بابِ دوستی کو آمد و رفت اور تجارت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

چمن کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق بابِ دوستی گزشتہ شام افغان شیلنگ کے بعد سے بند تھا۔

چمن کی ضلعی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ بابِ دوستی کھلنے کے بعد پاک افغان بارڈر پر آمد و رفت اور دو طرفہ تجارت معمول کے مطابق جاری ہے۔

بابِ دوستی پر پاکستانی حکام کی جانب سے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

آج سول ملٹری کمیٹی کا اجلاس ہو گا
دوسری جانب پاک افغان سرحد کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے آج سول ملٹری کمیٹی کا اجلاس ہو گا۔

سیکیورٹی اجلاس میں قبائلی عمائدین اور سول و فوجی حکام شرکت کریں گے۔

افغان بارڈر فورسز کی پاکستانی شہریوں پر گولہ باری
واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے علاقے چمن میں شہری آبادی پر افغان بارڈر فورسز کی جانب سے توپ خانے سے گولہ بارود اور مارٹر گولوں سمیت بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال اور اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔

فائرنگ کے نتیجے میں 7 شہری شہید اور 26 افراد زخمی ہوئے تھے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ روز معمولی زخمی 12 شہریوں کو طبی امداد کے بعد ان کے گھروں کی جانب روانہ کر دیا گیا تھا۔

افغان شیلنگ کے 14 شدید زخمیوں کو گزشتہ روز کوئٹہ منتقل کر دیا گیا تھا، سول اسپتال کوئٹہ میں داخل زخمیوں میں سے 4 کی حالت نازک ہے۔

افغان فورسز، گولہ باری، 6 پاکستانی شہید، چمن میں شہری آبادی پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ، توپخانے کا بھی استعمال، 17 زخمی

واقعے کے بعد پاک افغان بارڈر بابِ دوستی کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر کے دو طرفہ تجارت معطل کر دی گئی تھی۔

واقعے میں شہید ہونے والے 7 مقامی شہریوں کی تدفین کل ہی آبائی علاقوں میں کر دی گئی تھی۔

افغان فائرنگ و گولہ باری سے متاثرہ علاقے میں اب بھی خوف و ہراس پایا جاتا ہے، جہاں لوگ گھروں میں محصور ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں