262

،،زبان کی ثقافت اور احیا ء ،، کے عنوان سے یونیورسٹی آف میانوالی کے زیر اہتمام پہلی سہ روزہ ٹرانس ڈسپلنری کانفرنس کا آغاز ہوگیا

،،زبان کی ثقافت اور احیا ء ،، کے عنوان سے یونیورسٹی آف میانوالی کے زیر اہتمام پہلی سہ روزہ ٹرانس ڈسپلنری کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے جس کی افتتاحی تقریب مقامی شادی ہال میانوالی میں منعقد ہوئی کانفرنس کے شرکاء سے مختلف مقامی زبانوں اور ثقافت کے حوالے سے نمایاں مقام رکھنے والے ملکی و بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں خدمات سرانجام دینے والے سکالرز اور پروفیسرز خطاب کریں گے،کانفرنس کا انعقاد بین الاقوامی تنظیم انگلشر ٹرپل ایل انٹرنیشنل ترکی کے تعاون سے کیا گیاہے اس موقع پر افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر یونیورسٹی آف میانوالی ڈاکٹر اسلام اللہ خان نے کہا کے کانفرنس کے انعقاد کو میانوالی میں عمل و ادب کے احیاء کے حوالے سے ہوا کا تازہ جھونکا قرار دیا جاسکتا ہے یہ میانوالی جیسے دور افتادہ علاقہ میں اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس ہے جس میں ناصرف میانوالی یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ شریک ہیں بلکہ تھل یونیورسٹی بھکر سمیت ملحقہ اضلاع سے بھی طپبہ کی ایک بڑی تعداد اس کانفرنس میں شریک ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے طلبہ سیکھنے کا جذبہ رکھتے ہیں انٹرنیشنل انگلشر ٹرپل ایل آرگنائزیشن ترکی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر منتظر مہدی، پروفیسر ڈاکٹرمحمد شفیق آصف،پروفیسر ڈاکٹر عثمان،ڈائرکیٹر اکیڈمک تھل یونیوسٹی بھکر محترمہ ارم جمیل،نے بھی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں شرکاء سے خطاب کیا مقررین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد ہماری قومی زبان اردو اور بین الاقوامی رابطے کی زبان انگلش کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں بولی جانے والی مختلف علاقائی زبانین اور ان علاقوں کی مقامی ثقافتیں جنہیں بڑی حد نظر انداز کیا جاچکا ہے اور ہماری نئی نسل ان سے ناواقف ہے اس کا احیاء ہے کیونکہ ہماری نسل کو اپنی مادری زبان اور علاقائی ثقافت جو صدیوں سے چلی آرہی ہے لیکن ہماری عدم توجہی کی وجہ سے اب دور ہوچکی ہے اور اس کیلئے انہیں اس سے آشناء کروانا بہت ضروری ہے، انہوں نے مخلتف ممالک خاص کر سعودی عرب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پر مادری زبان عربی اور عرب ثقافت کو انتہائی اہمیت حاصل ہے اور وہاں پر عربی زبان کی تروئج اور عرب ثقافت کو زندہ رکھنے کیلئے بے پناہ کام کیا جاتا ہے، انہوں نے کہا اس سہ روزہ کانفرنس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا اس کانفرنس میں پاکستان بھر سے مختلف علاقائی زبانوں اور ثقافتوں کے حامل طلباء و طالبات و دیگر مہمان شرکت کرہے ہیں جس سے مختلف علاقائی زبانوں اور ثقافتوں کے حوالے سے ایکدوسرے کو روشناس ہونے کا نہ صرف موقع ملے گا بلکہ قومی بین الاقوامی سکالرز اور پروفیسر زکے تحقیقی مقالوں سے علمی طور پر ان کو فائدہ ہوگا اور اسکے ساتھ ساتھ اس کانفرنس کے جو مقاصد ہیں انکو حاصل کرنے میں خاصی مدد فراہم ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں